میدانِ جنگ بنے شام سے خوش خبری آ گئی


غوطہ (24 نیوز)ظلم اور جبر کی چکی میں پسنے والے شام کے مسلمانوں پر ظلم کے اندھیرے آہستہ آہستہ چھٹنے لگے ۔ ہزاروں بے گناہوں کے قتل عام کے بعد حکومت کو آخر خیال آ ہی گیا ۔

  شام میں حکومتی سکیورٹی فورسز نے کیا کیا ظلم نہ ڈھائے۔ کہیں پر لاشیں گرائیں تو کہیں پر خاندانوں کے خاندان بے گھر کر دیئے۔ بشارا لاسد کی حکومت نے اپنے ہی رہنے والوں پر زندگی کا دائر تنگ کیے رکھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فرانس کے سابق صدر نیکلس سرکوزی گرفتار

لیکن تمام ظلم و بربریت کے درمیان ایک خوشخبری بھی ملی ہے۔ غوطہ میں جاری جنگی کارروائیاں کے بعد سکیورٹی فورسز کو ایک اور بڑی اور اہم کامیابی ملی ہے۔

شام کےشہر غوطہ کے علاقہ حرستا پر بھی حکومتی فورسز نے قبضہ کر لیا۔ جس کے بعد ہزاروں عام شہریوں کا انخلاء کی اجازت دے دی گئی ہے۔ شہریوں کا انخلاجاری ہے۔

حرستا میں موجود باغی گروپ احرار الشام نے ہتھیار ڈال دیے۔ بشارالاسد حکومت نے باغیوں کے دونوں مطالبات منظور کرتے ہوئے باغیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو دوسری جگہ منتقل ہونے کی اجازت دے دی۔

 علاوہ ازیں شہر میں رہنے والوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔ باغی گروپ نے جذبہ خیر سگالی کے تحت ایک فوجی اہلکار سمیت 13 قیدیوں کو رہائی دے دی۔

پڑھنا نہ بھولئے: ایوانکا ٹرمپ بال بال بچ گئیں!! 

واضح رہے کہ شامی فوج نے 18 فروری کو مشرقی غوطہ پر دوبارہ قبضہ کے لیے زمینی کارروائی اور فضائی حملوں کا آغاز کیا۔ اب تک 70 فی صد علاقوں کا کنٹرول واپس لے لیا گیا ہے۔

 

شامی رصد گاہ کے مطابق شامی اور روسی طیاروں کے فضائی حملوں اور زمینی لڑائی میں کم سے کم ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اب تک 45 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔