ایم کیو ایم کی ذاتی لڑائیاں اور پانی کو ترستا ہوا کراچی

ایم کیو ایم کی ذاتی لڑائیاں اور پانی کو ترستا ہوا کراچی


کراچی (24 نیوز) متحدہ پاکستان کے ارکان سندھ اسمبلی نے عوامی مسائل پر اپنی حکمت عملی طے کر لی۔

خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ بہادرآباد اور پی آئی بی کے ارکان اسمبلی ایم کیو ایم کے ہیں۔ جھگڑے چاہے کتنے بھی ہوں، ایم کیوایم ایک ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے اندر دھڑا بندی تو ختم نا ہو سکی لیکن ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن اور پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے واضح اعلان کر دیا۔

خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ کراچی میں پینے کے صاف پانی ترقیاتی منصوبوں اور قومی شناختی کارڈ کے معاملہ پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔

واضح رہے کہ کراچی پینے کے پانی کو ترس رہا ہے۔ پانی کی فراہمی کا منصوبہ 10 سال کے بعد بھی خواب ہی رہ گیا۔ جبکہ شہر کے لیے 65کروڑ گیلن پانی کی فراہمی ناکافی ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے: کراچی پینے کے پانی کو ترس گیا

 شہر قائد کو مزید 6 سو 50 ملین فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا اور منصوبہ کا آغاز کیا گیا تھا جو ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔

شہر میں پانی کی اس کمی کو پورا کرنے لیے منصوبہ ’کے فور‘ 2007 میں تیار کیا گیا۔ جس کے تحت شہر کو تین مرحلوں میں اضافی 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جانا تھا۔

اگست 2016 میں منصوبہ کے پہلے فیز کا افتتاح ہونا تھا جو تاحال مکمل نہ ہو سکا۔ کے فور پروجیکٹ کے ڈائریکٹر اسد ضامن کے مطابق منصوبے کو جلد مکمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

پڑھنا نہ بھولئے:میاں نواز شریف نے بالآخر شکست مان لی

 واضح رہے کہ پانی کے اس منصوبہ کو تین مرحلوں میں مکمل کرنے پر کل لاگت کا تخمینہ 12 ارب روپے لگایا گیا تھا جو اب 25 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔ اس منصوبہ کے لیے کینجھر جھیل سے 121 کلومیٹر لمبی نہر کھودی جائے گی۔ جس کے ذریعہ شہر کو پانی کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔

ذرائع کے مطابق شہریوں کا سوال ہے کہ آخر یہ منصوبہ مکمل کب ہو گا اور پانی کب ملے گا۔