سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کے اثرات جے آئی ٹی رپورٹ پر پڑے: سابق وزیر اعظم


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مسلسل دوسرے روز اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں خود شریک نہیں رہا۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں جب کہ نامزد ملزمان نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود ہیں،احتساب عدالت نے ریفرنس میں نامزد ملزمان سے الگ الگ سوالات کے جواب طلب کر رکھے ہیں۔
سماعت کے دوران نواز شریف نے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے قطری خطوط کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ 'خطوط کی تصدیق خود حمد بن جاسم نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر کی جب کہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ نہیں کیا اور جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءکا تبصرہ سنی سنائی بات ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کے اختر راجا کزن ہیں جن کا عدالت میں دیا گیا بیان جانبدارانہ تھا، جیرمی فری مین کے 5 جنوری 2017 کے خط میں ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کی گئی جس نے کومبر گروپ اور نیلسن نیسکول ٹرسٹ کی تصدیق کی۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جیرمی فری مین کے پاس ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپی آفس میں موجود تھی لیکن اختر راجا اور جے آئی ٹی نے ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپیاں لینے کی کوشش نہیں کی، اختر راجا کو معلوم ہونا چاہیے کہ فوٹو کاپی پر فرانزک معائنے کا کوئی تصور موجود نہیں، اختر راجا نے جلد بازی میں دستاویزات خود ساختہ فرانزک ماہر کو ای میل کے ذریعے بھجوائیں اور یہ بھی حقیقت ہے فرانزک ماہر نے فوٹو کاپی پر معائنے کے لیے ہچکچاہٹ ظاہر کی۔

پانامہ کیس فیصلہ غیر مناسب تھا:نواز شریف

دبئی اسٹیل ملز سے متعلق نواز شریف نے کہا کہ دبئی اسٹیل ملز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے علاوہ مجھے باقی معاملات کا پتہ نہیں، اختر راجہ نے نیب کی 3رکنی ٹیم کی رابرٹ ریڈلے سے ڈھائی گھنٹے ملاقات کرائی، رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں، ا±س کے پاس اصل دستاویز ہی نہیں تھی جب کہ سپریم کورٹ میں پہلے جمع کرائی گئی ڈیڈ میں غلطی سے پہلا صفحہ مکس ہوگیا تھا اور اختر راجا نے اس واضح غلطی کی نشاندہی بھی نہیں کی۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے ملزم کے بیان قلمبند کیے جانے کے طریقے پر اعتراض اٹھا دیا، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ 6 دن کی لکھی ہوئی کہانی پڑھ کر سناتے رہیں، 342 کے بیان کی منشاء یہ ہے کہ ملزم بیان قلمبند کرائے جس کے دوران قانونی نکات پر وکیل سے مدد لی جاسکتی ہے،اس موقع پر جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں وہ بتائیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میرا اعتراض عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا جائے،نیب پراسیکیوٹیر اور نواز شریف کے وکیل کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔
نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ میں اس بیان پر قائم ہوں، یہ بیان میں نے خود وکیل خواجہ حارث کی مشاورت سے تیار کیا ہے، میں زیادہ دیر تک پڑھتا رہوں تو گلے میں مسئلہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے خواجہ صاحب کو پڑھنے کا کہا نیب کو اس پر اعتراض کرنا تھا تو گزشتہ روز کرلیتے۔

نگران وزیر اعظم کی کرسی کون سنبھالے گا؟ فیصلہ آج ہوگا

نیب پراسیکیوٹر کے اعتراض کے بعد نواز شریف نے خود بیان پڑھنا شروع کیا، نواز شریف کا بیان مکمل ہونے کے بعد مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر اپنا بیان قلمبند کرائیں گے،سابق وزیراعظم نے گزشتہ روز سماعت کے دوران تقریباً 4 گھنٹے تک 128 میں سے 55 سوالات کے جواب پڑھ کر سنائے اور آج بھی وہ مزید سوالات کے جواب پڑھ کر دے رہے ہیں۔
گزشتہ سماعت پر نواز شریف نے سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق فیصلے اور جے آئی ٹی کو نامناسب اور غیر ضروری قرار دیا اور عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی کے لکھے گئے باہمی قانونی معاونت (ایم ایل ایز) کی بنیاد پر فیصلہ نہ دیا جائے، نواز شریف نے جے آئی ٹی ارکان پر بھی اعتراضات اٹھائے اور اس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افسران کو شامل کرنا بھی غیرمناسب قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ سول ملٹری تعلقات میں تناو کے اثرات جے آئی ٹی رپورٹ پر پڑے۔