بلوچستان اسمبلی کے پانچ سال،خوب گہما گہمی رہی

بلوچستان اسمبلی کے پانچ سال،خوب گہما گہمی رہی


کوئٹہ( 24نیوز )بلوچستان اسمبلی28مئی کو اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے5سال کے دوران کس رکن نے بلوچستان اسمبلی کے ہونے والے اجلاسوں میں کتنا حصہ ڈالا۔

65اراکین کی بلوچستان اسمبلی میں قانون سازی اور عوامی مفادات کیلئے منتخب اراکین اسمبلی بحث و مباحثے اور سوچ و فکر کرتے ہیں2013کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن ،پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے صوبے میں مخلوط حکومت بنائی تو جمعیت علمااسلام،عوامی نیشنل پارٹی،بلوچستان نیشنل پارٹی نے اپوزیشن کی نشستیں سنبھالیں پانچ سالہ دور میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم زیارتوال،صوبائی وزیر داخلہ مسلم لیگ ن کے میر سرفراز بگٹی اور نیشنل پارٹی کے رحمت صالح بلوچ نے اجلاس کے دوران بڑھ چڑھ کر حکومت کا دفاع کیا ۔

 پڑھنا مت بھولیں: نگران وزیر اعظم کی کرسی کون سنبھالے گا؟ فیصلہ آج ہوگا

دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے تیر برسانے کا عمل جمعیت علمااسلام کے سردار عبدالرحمن کھیتران،مولانا عبدالواسع اور عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے پایہ تکمیل تک پہنچایا،خواتین ارکان میں حکومتی بینچوں سے نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی نے حکومت کا ساتھ دیا۔تو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھی جمعیت علمائاسلام کی شاہدہ رﺅف نے حکومت کی ہر کوتاہی کا پرچار کیا۔

موجودہ اسمبلی میں میر ظفر اللہ زہری سردار اخترجان مینگل،سردار سرفراز چاکر ڈومکی کی حاضریاں انتہائی کم رہیں جبکہ اسمبلی کی مدت کے درمیان مسلم لیگ ن کے اقلیتی رکن سنتوش کمار اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے منظور کاکڑ کی رکنیت معطل بھی ہوئی۔