وادی کیلاش کی ”کیلاشا“کو خطرہ

وادی کیلاش کی ”کیلاشا“کو خطرہ


پشاور( 24نیوز )زبان کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہے،چترال کی وادیوں میں بسنے والے کیلاشی افراد کی زبان کیلاشا کے بولنے والے اب صرف چند ہزار افراد رہ گئے ہیں،اس زبان اور ثقافت کو محفوظ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
چترال کی تین وادیوں میں صدیوں سے آباد کیلاش قوم کی تعداد ماضی میں ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انکی تعداد کم ہوتے ہوتے چند ہزار تک رہ گئی ہے اور کیلاشی زبان اور ثقافت کو خاتمے کا خطرہ درپیش ہے۔کیلاشی زبان جسے کیلاشا کہا جاتا ہے بولنے والے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے یونیسکو نے اسے لسٹ آف ورلڈ لینگویجز ان ڈینجر میں شامل کر لیا ہے۔
کیلاشی زبان کو پھر سے سہارا دینے اور دنیا میں پہچان کے لئے مقامی افراد نے غیر سرکاری تنظیم کی مدد سے کیلاشا سکول اور چھ ہزار الفاظ پر مشتمل ڈکشنری ترتیب دی ہے جو صحرا میں بارش کی پہلی بوند کے مانند ہے لیکن اب بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ”پاک بھارت “کے بجائے ”مرزا ملک“ کیوں؟ثانیہ مرزا نے خود بتادیا

انسٹیٹیوٹ آف کیلاش کلچر ایند ٹریڈیشن کے نام سے قائم سکول میں بھی کیلاشا ثقافت اور زبان کی ترویج کے ساتھ ساتھ کیلاشا زبان کا رسم الخط بھی سکھایا جاتا ہے لیکن اس ضمن میں حکومت کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اس قومی ورثہ کو بچانے کیلئے وہ اپنا موثر کردار ادا کرے۔