گلگت بلتستان اسمبلی کو مکمل اختیارات مل گئے

گلگت بلتستان اسمبلی کو مکمل اختیارات مل گئے


گلگت بلتستان (24 نیوز) گلگت بلتستان حکومت نے نیا آرڈر 2018 گلگت بلتستان میں نافذا لعمل کر دیا۔ نئے آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کے شہری سپریم کورٹ آف پاکستان میں رٹ پٹیشن دائر کر سکتےہیں، آرڈر 2018 کے بعد گلگت بلتستان کو چاروں صوبوں کے برابر اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔

 24 نیوز ذرائع کے مطابق سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی رپورٹ سلامتی کونسل کی توثیق کے بعد گلگت بلتستان حکومت نے اصلاحاتی پیکیج پر نافذ العمل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ نیا سیاسی اقتصادی اور انتظامی پیکیج کو اصلاحاتی پیکیج 2018 کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے مطابق سیاسی طور پر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو گلگت بلتستان اسمبلی کا نام دیا گیا ہے۔

نئے ایکٹ کے تحت گلگت بلتستان کا شہری پاکستان کا مکمل شہری کہلائے گا۔  نئے آرڈر کے تحت دیگر صوبوں کی طرح تمام اختیارات گلگت بلتستان اسمبلی کو منتقل ہوگئے ہیں۔ نئے آرڈر کے مطابق، سیاحت، منرلز، ہائیڈرو اور پاور کے شعبے پر قانون سازی کا اختیار بھی گلگت بلتستان اسمبلی منتقل ہوں گے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: مراد علی شاہ نے سندھ میں الگ صوبے کی بات کرنے والوں پر لعنت بھیج دی

نئے آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کونسل کو ختم کرکے گلگت بلتستان ایڈوائزری باڈی تشکیل دی گئی ہے اور سابقہ کونسل کے تمام سبجکٹ گلگت بلتستان اسمبلی کو منتقل ہوگئے ہیں۔  

ایگزیکٹیو آرڈر 2018 کے مختلف آرٹیکلز کے مطابق مخصوص وفاقی اختیارات جس کا اطلاق چاروں صوبوں میں وزیر اعظم پاکستان کو حاصل ہیں ان کے علاوہ گلگت بلتستان میں بھی وزیر اعظم کسی خاص اختیار کا مجاز نہیں، گلگت بلتستان میں بھی وزیراعظم کے وہی اختیارات ہیں جو بحیثیت وزیر اعظم چاروں صوبوں کے لئے ہیں۔  

پڑھنا مت بھولئے: شریف خاندان گلا پھاڑ کرگالیاں دینے کے بجائے کرپشن مقدمات کا سامنا کریں: مولابخش چانڈیو

نئے ریفارمز آرڈر کے بعد گلگت بلتستان چیف کورٹ کو ہائی کورٹ کا درجہ دیا گیا ہے اور ججز کی تعداد پانچ سے بڑھا کر سات کر دی گئی ہے، جبکہ ججز کی تعیناتی کے لئے جوڈیشل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ جس کے مطابق بار کونسلز کے وائس چیئرمین بھی کمیٹی کے ممبران ہونگے اور وزیراعظم پاکستان کمیٹی کی ایڈوائس پر جج تعینات کرینگے۔

نئے آرڈر کے تحت 1951 کی سیزن شپ ایکٹ کے تحت صرف گلگت بلتستان کا شہری ہی گورنر گلگت بلتستان بننے کا اہل ہوگا اور مزکورہ آرٹیکل کے تحت اب گلگت بلتستان کا شہری بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں بحیثیت پاکستانی شہری اپنی پٹیشن دائر کر سکے۔