وزیر اعظم ٹریزامے نے نئی ڈیل کی پیش کش کردی

وزیر اعظم ٹریزامے نے نئی ڈیل کی پیش کش کردی


لندن (24 نیوز) بریگزٹ پر وزیر اعظم ٹریزامے نےدس نکات پرمشتمل نئی ڈیل کی پیش کش کردی۔

بریگزٹ ڈیل پر برطانوی وزیر اعظم ٹریزامے نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 2016میں بریگزٹ کا فیصلہ ہوچکا تھا لیکن عوامی رائے سے لیکر پارلیمنٹ سے منظوری تک بہت مراحل تھے۔عوام منظوری کے بعد پارلیمنٹ اور چھبیس ہمسائے ممالک سے بہتر تعلقات قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ اَسّی فیصد ممبران پارلیمنٹ جو بریگزٹ چاہتے تھے صرف ڈیل پر پیچھے ہٹ گئے۔

29 مارچ کوتیس ایم پیز  کی مخالفت سے یورپ کو چھوڑ نہ سکے اور ویڈرال ایگریمنٹ مسترد ہو گیا۔ انھوں نے بتایا کہ کراس پارٹی ڈیل کیلئے اپوزیشن سے چھ ہفتے مذاکرات جاری رہے لیکن وہ بھی سود مند ثابت نہ ہوئے۔انھوں نے تمام ممبران پارلیمنٹ کو ایک نئی بریگزیٹ ڈیل کی پیشکش بھی کی۔ان کا کہنا تھا کہ نئی ڈیل میں اس پہلو کو مدنظر رکھا جائے گا کہ کوئی نئی حکومت شمالی آئرلینڈ کو گریٹ بریٹن سے علیحدہ نہ کرسکے۔

وزیراعظم نےبریگزٹ ڈیل کےحوالےسےتبدیلیوں کااعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ورکرزرائٹس بل کےذریعےبرطانوی ورکرزکو یورپین ورکرزکےبرابرحقوق کاتحفظ یقینی بنایاجائےگا، حکومت کی قانونی ذمہ داری ہوگی کہ2020تک بیک سٹاپ کا متبادل تلاش کرے، بریگزٹ کےبعد ماحولیاتی تحفظ کےلیول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، ودڈرال ایگریمنٹ ووٹنگ میں سیکنڈریفرنڈم پرووٹنگ کاآپشن بھی شامل ہوگا، ودڈرال ایگریمنٹ کی منظوری سےبریگزٹ ڈیل کوقانونی تحفظ حاصل ہوجائےگا۔

وزیر اعظم کا مزیدکہنا تھا کہ برطانیہ کےسیاسی مسائل کاحل ڈیل کی منظوری سےوابستہ ہے، ایم پیزکی جانب سےڈیل کی نامنظوری بریگزٹ کو مسترد کرنےکےمترادف ہوگی۔

Malik Sultan Awan

Content Writer