بھارت نے پاکستان کی مان لی، کرتار پور بارڈر کھولنے کی منظوری دیدی



24 نیوز : امن کے دعوے نہیں عملی اقدام بھی، ایک طرف بھارت کا انتہاپسندانہ رویہ دوسری جانب پاکستان کے خطے میں قیام امن کیلئےعملی اقدامات، پاکستان نے کرتارپور سے بھارت تک سڑک کی تعمیر کا آغاز کردیا، وزیراعظم 26 نومبرکو کوریڈورمنصوبے کا افتتاح کریں گے۔

امن کے دعوؤں کے برعکس عملی اقدامات، پاکستان نے کرتارپور سے بھارتی سرحد تک سڑک کی تعمیر کا آغاز کردیا،  پاکستان آئے سکھ یاتریوں نےبھی اس اقدام کو سراہاہے،  سکھوں نے معاملہ اجاگر کرنے پر ٹوئنٹی فورنیوز کا شکریہ ادا کیا۔  گرو نانک کی آخری آرام گاہ گردوارہ دربار صاحب کرتارپور سے بھارتی سرحد تک ساڑھے چار کلومیٹر سڑک کی تعمیر کیلئے ابتدائی کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان چھبیس نومبرکو بابا گورونانک دربار کا دورہ کریں گے، اور منصوبے کا افتتاح بھی کریں گے۔

ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو خط لکھا ہے، خط میں کرتارپور بارڈر کھولنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا کرتارپور کے حوالے سے موقف خوش آئند ہے، بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کیلئے آئے سکھ یاتریوں نے پاکستان کی جانب سے اس کاوش پر وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا ہے۔خطے کی سیکورٹی کا معاملہ ہو یا کچھ اور پاکستان نے ہمیشہ امن کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں، کرتار پور بارڈر کھولنے کیلئے پاکستانی اقدام اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یاد رہے کرتارپورکاراستہ کھولنے کی پیش رفت 18 اگست کواس وقت ہوئی تھی جب وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں مہمان آئے سابق کرکٹر نوجوت سدھو کوگلےلگا یا ۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نےکہاتھا کہ ہم بابا گرو نانک کے 550 ویں عرس پر کرتارپورکاراستہ کھولنے کاسوچ رہے ہیں۔جس کا سدھو نے کھلےدل سے خیرمقدم کیاتھا۔