طالبہ نمرتا کی پراسرار ہلاکت میں نیا موڑ آگیا

طالبہ نمرتا کی پراسرار ہلاکت میں نیا موڑ آگیا


کراچی( 24نیوز )لاڑکانہ میں نمرتا کی پراسرار ہلاکت کے واقعہ میں نیا موڑ آگیا، کلاس فیلو مہران ابڑو نے شادی کا وعدہ کیا لیکن بعد میں وہ مکر گیا،طالبہ ایک ماہ سے پریشان تھی،نفسیاتی علاج بھی کرایا، نمرتا چار سال سے مہران اور اس کے خاندان کا خرچہ چلاتی رہی۔

تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں آصفہ ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتاکی پراسرار موت کے واقعہ میں نیا موڑ آگیا، نمرتا کیس میں گرفتار ملزم مہران ابڑو کا کہناتھا کہ میں اور نمرتا ایک دوسرے کی محبت میں گرفتارتھے اور دونوں شادی کرنا چاہتے تھے، نمرتا کماری اور مہران ابڑو کی شادی میں مہران ابڑو کی والدہ افروز رکاوٹ بنی ہوئی تھی،والدہ افروز نے ایک ماہ قبل نمرتا کماری کو رشتے سے انکار کردیا تھا۔

رشتے سے انکار کے بعد نمرتا کماری ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی اور علاج کرانے لگی، نمرتا کماری مہران ابڑو کو چار سال سے خرچہ دیتی رہی، اے ٹی ایم کارڈ کے اختیارات بھی مہران ابڑو کے ہاتھ تھے، مہران ابڑو کی دو بہنیں باکھ اور کومل کو بھی نمرتا کماری شاپنگ کراتی رہی۔

طالبہ نمرتا کے دو کلاس فیلو سمیت32 افراد کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں، سنیئر پروفیسرامرلعل نے بیان دیا کہ نمرتا کئی دنوں سے کافی پریشان تھی، وہ روئی اور ساری صورت حال سے مجھے آگاہ کیا میں نےدکھ کی اس گھڑی سے نجات کے لئے نمرتا کو یوگا ، ورزش کرنے کا مشورہ دیا، پولیس وسیم میمن نامی شخص کی دلچسپی پر بھی تحقیق کررہی ہے۔

  نمرتا کماری کا قتل یا خودکشی ساتویں روز بھی پولیس معلوم نہ کرسکی، نمرتا کماری واقعہ کا کیس بھی دائر نہ ہوسکا، نمرتا کماری کیس کی جوڈیشنل انکوائری بھی شروع نہ ہوسکی،ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ کی درخواست پر بھی نمرتا کماری کے ورثا لاڑکانہ نہ آسکے، نمرتا کماری کا کیس ورثا نہ دائر کرائیں گے تو مجبوراً پولیس کی مدعیت میں کیس دائر ہوگا۔ 

میرپورخاص میں اقلیتی برادری کا کہناتھا کہ نمرتا کے خون کے ساتھ انصاف کیا جائے،میرپورخاص میں کاروبار بند کردیا، میرپورخاص، عمرکوٹ روڈ، صوفی موڑ موڑ پر احتجاج ٹائر نذر آتش کرکے روڈ بلاک کردیا گیا، ٹریفک معطل،مشتعل افراد کی جانب سے نمرتا کیس میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

 گھوٹکی، قادرپور،اور خان پورمہر میں احتجاجی مظاہرے، نعریبازی کی گئی، خان پورمہر میں جسقم سول سوسائٹی اور ہندو پنچائت کی سربراہی میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، مظاہرین کا کہناتھا کہ کالج کی وی سی انیلا کو معاملے میں شاملِ تفتیش کیا جائے،وائس چانسلر انیلا بار بار کیوں کہتے ہے کہ خودکشی ہے،اگر کالجوں میں ایسے واقعے رونما ہوتے رہے تو ہم اپنی بچیوں کیسے تعلیم دلا سکیں گے؟ نمرتا چندانی ایک بہادر اور سوشل ورکر قسم کی لڑکی تھی،وہ خود کشی نہیں کر سکتی ہے۔