چینی باشندے نے دفتر جلد پہنچنے کیلئے سفر کم کرنے کا حل نکال لیا

چینی باشندے نے دفتر جلد پہنچنے کیلئے سفر کم کرنے کا حل نکال لیا


بیچنگ(24نیوز) چین کے باشندے نے 11 سال سے روزانہ تیر کر اپنے سفر کو مختصر کر دیا۔گزشتہ  گیارہ سالوں سے چین کے ژو بیو نے ٹرین کا سفر چھوڑ کر نئے تجربے سے سفر کے دورانیہ کو کم کر دیا۔

جنوبی شہر وہان میں رہنے والا 53 سالہ شخص ژو بیو روزانہ صبح سات بجے 2200 میٹر یانٹز دریا سے تیرتا ہوا اپنے دفتر پہنچتا ہے، ژو بیو کے مطابق اس کو یہ سفر طے کرنے میں تیس منٹ لگتے ہیں جبکہ ٹرین سے اس مسافت کا دورانیہ ایک گھنٹہ ہے ۔

چینی خبر  رساں ادارے  کے مطابق ژو بیو ضلع ہایانگ میں رہتا ہےاور ووچنگ کی مارکیٹ میں فوڈ مینجر کے طور پر کام کرتا ہے۔ ژو بیو کے مطابق اس طرح تیرنے سے نہ صرف وہ وقت بچتا ہے بلکہ اس طرح وہ زیادہ صحت مند بھی رہتا ہے۔1999 میں ژو بیو میں 2 قسم کی ذیابیطس کی تشخیص ہوئی اور وزن 100 کلو گرام سے زیادہ ہو گیا تو اس نے 2004 میں دریا کنارے تیرنا شروع کیا اور خود کو 2200 میڑ تیرنے کے قابل بنا لیا2008 میں ژو نے موسم سرما ایونٹ میں حصہ لیا اور متبادل راستہ اختیار کیا۔

ژو کا کہنا ہے کہ ان سالوں میں اس کا بلڈ شوگر نارمل ہو گیا اور دریا میں  سب کشتیاں چلانے والے اسے پہنچانتے ہیں اور اسے آگے جانے کا رستہ دے دیتے ہیں مزید اس کا کہنا تھا کہ چھاتی کے بل تیرنے سے آپ اپنے اردگرد دیکھ سکتے ہیں پر ایسا کرنے کیلئے بہت زیادہ ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین اور ساتھی دوست اس کی حیران کن قابلیت پر اسے ٹریک کہہ کر بلاتے ہیں،ژو کےساتھیو ں کے مطابق ژو ہمیشہ وقت سے پہلے دفتر پہنچ جاتا ہے اور گزشہ دس سالوں سے یہ ایک بھی دن دیر سے نہیں پہنچا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer