دورہ پاکستان سے یقین پختہ ہوا کہ تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں، نوجوت سنگھ سدھو

دورہ پاکستان سے یقین پختہ ہوا کہ تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں، نوجوت سنگھ سدھو


24نیوز : سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا ہے کہ حالیہ دورہ پاکستان سے ان کا یقین پختہ ہوا ہے کہ پاک- بھارت تعلقات بہتر کیے جاسکتے ہیں۔

نوجوت سنگھ سدھو نے 18 اگست کو نومنتخب وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی، اس موقع پر انہوں نے نہ صرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مصافحہ کیا بلکہ گلے بھی ملے، جس پر بھارت میں مختلف حلقوں کی جانب سے ان پر شدید تنقید کے ساتھ ساتھ غداری کا مقدمہ بھی درج کروا دیا گیا۔

اس سارے تنازع کے حوالے سے بھارتی اخبار دی ہندو کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں نوجوت سنگھ سدھو نے خود پر تنقید کرنے والوں سے چھبتے ہوئے سوال پوچھ ڈالے۔ سدھو نے سوال اٹھایا کہ دورہ پاکستان پر واویلا کرنے والے اگر خیرسگالی نہیں چاہتے تو پاکستان میں بھارتی سفارتخانہ کیوں ہے؟ اگر ہم خیرسگالی نہیں چاہتے تو عید اور یوم آزادی پر مٹھائیوں کا تبادلہ کیوں کرتے ہیں؟ اوریہ بھی کہ اگر خیرسگالی نہیں چاہتے تو بھارتی ہائی کمشنر نے عمران خان کو بلا کیوں تحفے میں دیا؟

انہوں نے کہا کہ وہ خیرسگالی سفیر کے طور پر امن اور محبت کا پیغام لےکر دوست کی حیثیت سے پاکستان گئے تھے، جہاں بچے بڑے سب اُن سے نہایت گرمجوشی سے ملے اور کہا کہ 'سدھو صاحب! تاڈا سواگت اے آپ کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو نے زور دیا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں ان کے گرمجوشی سے اس استقبال کا فائدہ اٹھائے اور امن بات چیت آگے بڑھائے، تنقید کے بجائے پاکستان سے تجارت بڑھانا اور دونوں قوموں کا رشتہ مضبوط کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ دورہ پاکستان سے میرا یقین پختہ ہوا ہےکہ پاک بھارت تعلقات بہتر کیے جاسکتے ہیں، خصوصاً عمران خان کی جانب سے امن مذاکرات پر زور نے میری امیدیں اور بڑھا دی ہیں۔ 

شازیہ بشیر

Content Writer