کشمیرپربھارتی فلم بنے گی؟

مناظرعلی

کشمیرپربھارتی فلم بنے گی؟


تعصب توبھارتی فلم انڈسٹری کے تحت بننے والی تقریباہرفلم کے سکرپٹ میں ہی پایاجاتاہے،سوائے چندایک فلموں کے انڈیا کی کوئی ایسی فلم نظرنہیں آئے گی جس میں ہندومذہب کاپرچاراوراسلام کونیچادکھانے کی کوشش نہ کی گئی ہو،پاکستان کے قومی لباس،شعائراسلام،نماز،اذان، قرآن پاک اورداڑھی کواس اندازمیں انڈین پروڈیوسرپیش کرتے ہیں کہ قتل وغارت،جرائم اوردہشتگردی صرف مسلمان ہی کرتے ہیں،کسی بھی فلم میں دہشتگردی کرنے والامسلمان دکھایاجاتاہے،قتل کاسین عکسبند کرنے سے پہلے اذان یامسجدکے میناردکھائے جاتے ہیں اورقاتل قتل کے بعدجائے نمازپرکھڑاکردیاجاتاہے،حقیقت سے کہیں دورایکشن اورفحش مناظرکے سہارے چلنے والی فلم انڈسٹری میں غیرجانبداری نام کی چیزڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی حالانکہ مسلمانوں سے ہٹ کربھی کوئی غیرجانبدارفلم بین اگرانڈین فلم دیکھے تواسے واضح نظرآئے کہ اس انڈسٹری کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں،صرف اورصرف مسلمان،اسلام اورپاکستان کوبدنام کرنے کے سواکوئی دوسرامقصدنظرنہیں آتا۔

بھارتی فلم انڈسٹری کے کرتادھرتالوگ اگرغیرجانبداری سے دیکھیں تواس وقت بہت سے ایسے موضوعات انہیں اپنے ملک میں بھی نظرآئیں گے بلکہ یہ شروع دن سے موجودہیں،انتہاپسندہندوؤں کے مظالم،مذہب کے نام پردوسرے مذاہب کے پیروکاروں پرظلم وستم کے پہاڑڈھانا،جیساکہ گائے کے معاملے کوہی لے لیں،ایک مسلمان کوبھارت میں صرف اس وجہ سے قتل کردیاجاتاہے کہ اس نے اپنے عقیدے کے مطابق گائے کیوں ذبح کی حتی کہ گائے کے معاملے میں انہیں مسلمانوں سے اتنی زیادہ دشمنی ہے کہ وہ خود تواس گائے کاپیشاب تک پی جاتے ہیں(ہمیں اعتراض نہیں،یہ ان کاعقیدہ ہے) مگرمسلمان اگردودھ پینے کے لیے بھی گائے لے جارہاہوتوانہیں ایسا لگتاہے کہ یہ اس کاگوشت کھا جائے گا اوروہ مشتعل ہوکرمسلمان کی ہڈی پسلی ایک کردیتے ہیں اورجان سے مارناتوشایدان کے نزدیک کوئی بہت اچھاعمل ہے۔۔معاشرتی مسائل اورہٹ کرسٹوری پرکام کرنے کے دعویداربھارتی پروڈیوسرزکوکبھی اس بات کاتوخیال نہیں آیا کہ بھارت کے اس اہم مسئلے پربھی ایک فلم بنادیں اورکچھ نہیں تواپنے اوپرلگے تعصب کے دھبے کوتودھونے میں کوشش ہوجائے گی۔

بھارت کی گندی راج نیتی پرفلمیں بنانے والے پروڈیوسرزکوچاہے اورکچھ نظرنہ آتاہوگا اوروہ گائے کے معاملے کوکچھ دیہات تک سمجھتے ہوں گے مگر سب سے زیادہ ظلم کی داستانیں رکھنے والے کشمیرسے کیسے نظریں چرارہے ہیں،کیااس اہم مسئلے پرانہیں فلم بنانے کاخیال نہیں آیا کہ یہاں تومسلمان مظلوم ہے،یہاں توان کی اپنی سرکارکے قبضے کی وجہ سے لاکھوں کشمیریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے،یہاں توخواتین کی عزتیں پامال کی جاتی ہیں،یہاں تو کم سن بچوں پربھی گولی چلانے سے انہیں کوئی دھرم تک نہیں روکتا،ہندودھرم کے تحت اپنے بھگوانوں کی پوجاکرنے والے کس عقیدے کے تحت انسانیت کاخون جانوروں کی طرح بہارہے ہیں،اس پربھی توایک فلم بنائیں تاکہ دنیا کوپتہ چل سکے کہ دہشتگردمسلمان نہیں بلکہ تعصب کابت مودی خود ہی معصوم کشمیریوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ کرخوش ہورہاہے۔

انڈین فلم انڈسٹری اگرایک فلم کشمیرمیں اپنی سرکارکی اصل نیت اوران کے کالے کرتوں پربنالے تونہ صرف ان سے تعصب کالیبل اتارنے میں مددملے گی بلکہ یہ فلم ان کی انڈسٹری میں بزنس بھی ریکارڈ کرے گی،مجھے یقین ہے کہ اگرغیرجانبداری سے فلم بناؤ گے تویہ فلم پاکستان،انڈیا اورکشمیرسمیت پوری دنیادیکھے گی،یہ غالباتیرہ چودہ سال پرانی بات ہے کہ مہیش بھٹ سے لاہورمیں ملاقات ہوئی،اس وقت میرے ساتھ ایک پاکستانی ہنڈسم صحافی شہزادسرفرازبھی تھے جوآج کل لاہورکے ایک ٹی وی چینل پرپروڈیوسرہیں،انہیں دیکھ کرمہیش بھٹ نے کہاتھا کہ تم انڈیاآجاؤ،ہماری فلم انڈسٹری میں چھاجاؤ گے،شہزاد نے آفرٹھکراتے ہوئے بات ہنسی میں ٹال دی تومیں نے ازراہ مزاح کہاکہ بھٹ صاحب مجھے یہ آفرکرتے توشایدمیں قبول کرلیتا،جس پرکہنے لگے کہ میں ٹیلنٹ کوپہچان لیتاہوں،اس لڑکے میں کرنٹ ہے،اگریہ فلم انڈسٹری میں اِن ہوجائے توچھاجائے۔

مہیش بھٹ توشایداب کچھ کرنہ سکیں مگرآج میں انڈین پروڈیوسرزکو مشورہ دے رہاہوں کہ اگربڑی فلم بنانی ہے تواس وقت کشمیرکے مظالم سے پردہ ہٹانے سے بڑھ کرکوئی بڑا موضوع نہیں۔۔فلم کانام میں تجویز کردیتاہوں،بناآپ لیں،ہٹ نہ ہوتومیں ذمہ دار ہوں۔کچھ نام یہ ہوسکتے ہیں ‘‘مودی کاامن پروار،وادی میں ظلم کے پہاڑ،کشمیرلہولہو،خون کی ہولی،موت کے سائے،امن کی آشا،،۔ لہذاظلم کیخلاف آوازبلندکرنے کے دعویدارو شروع ہوجاؤ اورمودی کااصل چہرہ دنیاکودکھاکرہیروبھی بنواورریکارڈبزنس بھی کماؤ۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔