پشاور ہائیکورٹ میں زیر التو کیسز میں مسلسل اضافہ

پشاور ہائیکورٹ میں زیر التو کیسز میں مسلسل اضافہ


خیبر پختونخوا (24نیوز) پشاور ہائیکورٹ میں زیر التو کیسز میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ماتحت عدالتوں سے آنے والے کیسز بھی عدالت عالیہ پر بوجھ بن گئے،جنوری سے اکتوبرتک تین لاکھ نو ہزار 183 کیسز کو نمٹایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق عدالت عالیہ پشاور میں سال کے آغاز سے ہی دس ہزار سے زائد کیسز التوا کے شکار رہے لیکن اب بھی پشاور ہائیکورٹ میں زیر التو کیسز کی تعداد اکتیس ہزار سے زائد ہے عدالت عالیہ پشاور میں اس وقت پندرہ ججز مستقل جبکہ پانچ ججز ایڈیشنل طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ کے زیر انتظام صوبہ بھر کے ماتحت عدالتوں میں جنوری 2017 میں زیر التواء کیسز کی تعداد 186362 تھی جہاں نئے تین لاکھ ستر ہ ہزارچارسو پچیس کیسز لائے گئے جنوری سے اکتوبر 2017تک نمٹائے جانیوالے کیسز کی تعداد تین لاکھ نو ہزار ایک سو تریاسی رہی, قانون دان بھی کیسز نمٹانے کے مقابلے میں آنیوالے زیادہ کیسز پر پریشان ہیں۔

عدالت عالیہ میں اس سال لاپتہ افراد کے کیسز میں بھی تیزی آئی تقریبا سات سو کیسز لاپتہ افراد کے نمٹا دئیے گئے جبکہ ابھی بھی چودہ سو کیسز پشاور ہائیکور میں زیر سماعت ہیں جبکہ ماتحت عدالتوں میں زیر التواء کیسز کی تعداد دو لاکھ تین ہزار نو سو ستاون ہے۔