اسلام آباد: پلاٹوں کا جھانسہ دے کر شہریوں کو لوٹنے کا بازار گرم


اسلام آباد (24نیوز) رئیل اسٹیٹ میں فراڈ اور جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے شہریوں کو لوٹنے کا بازار گرم کررکھا ہے۔ زمین ہے نہیں اور پلاٹوں کی فروخت کی جارہی ہے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےنوٹس لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پلاٹوں کا جھانسہ دے کر کئی سالوں سے شہریوں کو لوٹنے کا بازارسر گرم ہے۔ کروڑوں روپے کی لوٹ مار کرنے والی نیشنل کوآپریٹو کے نام سے جعلی ہاﺅسنگ سوسائٹی کو سی ڈی اے کی مبینہ سرپرستی بھی حاصل رہی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہاﺅسنگ سوسائیٹیز کے فرانزک آڈٹ کے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس نے رجسٹرار کو معاملہ سماعت کے لیے تاریخ مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔

نیشنل کوآپریٹو کے نام سے جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کو سی ڈی اے حکام کی مبینہ سرپرستی کا بھی انکشا ف ہوا ہے۔ ڈپٹی رجسٹرار راولپنڈی حسن عباس اور سی ڈی اے کے ڈائریکٹر ہاوسنگ فراز ملک بھی سہولت کار نکلے۔ سوسائٹی کے خلاف تحقیقات پر مامور ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب غازی رحمان بھی ہمدرد بن گئے۔ ستم ظریفی کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر کے نام سے اخبار میں تعریفی اشتہار تک شائع کیا گیا۔

نیشنل ہاؤسنگ سوسائٹی نے بغیر زمین تین ہزار آٹھ سو ستانوے لوگوں کو کروڑوں کے پلاٹ کاغذوں میں فروخت کئے۔ ایف آئی اے اپنی رپورٹ میں کہہ چکی ہے کہ آڈٹ میں وفاقی اور صوبائی حکام تعاون نہیں کر رہے ہیں۔

مزید دیکھیے اس ویڈیو میں