دریائے سندھ کے کنارے قدرتی تاریخی ورثہ، محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت کا شکار

دریائے سندھ کے کنارے قدرتی تاریخی ورثہ، محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت کا شکار


کراچی(24نیوز) دریائے سندھ کے کنارے بے شمار پتھروں میں  نقش و نگار جنہیں راک کارنگ کہا جاتا ہے،خطے کی تاریخ کا انمول اثاثہ ہیں، محکمہ آثار قدیمہ نے ان پتھروں کو بے یارو مددگار چھوڑ رکھا ہے،کچھ پتھر تو لوگ اٹھالے گئے جو بچے انہیں دریائے سندھ کا پانی مٹا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ کنارے مختلف شکل کی حامل ان چٹانوں کی تاریخ دریائے سندھ جتنی ہی قدیم ہے۔پانی کی بے رحم موجوں نے ان چٹانوں کا سینہ چیر کر رکھ دیا۔ ان چٹانوں نے مختلف اشکال اختیار کر لیں۔ چٹانوں پر بنے نقوش دیکھ کر قدرت کی فن کاری پر رشک ہونے لگتاہے۔مقامی لوگ یہ دلفریب نظارے دیکھنے کیلئے دریائے سندھ کا رخ کرتے ہیں۔ سیاحوں کا کہنا تھا کہ چٹانوں کا ایسا نظارہ دنیا میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کی عدم دلچسپی سے چٹانوں کا یہ خوبصورت ورثہ اپنی موت آپ مر رہا ہے۔

علاوہ ازیں یہ چٹانیں دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی ماہر نقاش نے بڑی فرصت سے انہیں تراشا ہے۔ دریائے سندھ کنارے ایسے اور بھی بے شمار نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔کہیں چٹانوں نے غار کا روپ دھار لیا ہے تو کہیں چٹانوں کا قدرتی تخت سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ چٹانیں صدیوں پرانی ہیں۔ ان قدرتی فن پاروں کی اگر تشہیر کی جائے تو غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرسکتےہیں۔لوگوں کا کہنا تھا کہ محکمہ آثار قدیمہ اس تاریخی ورثے کی حفاظت کیلئے اقدامات کرے۔