پنجاب حکومت بھی احد چیمہ کے ساتھ کھڑی ہوگئی

پنجاب حکومت بھی احد چیمہ کے ساتھ کھڑی ہوگئی


لاہور (24 نیوز) پنجاب حکومت احد چیمہ کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ ترجمان ملک احمد خان نے کہا کہ احد چیمہ کو پنجاب میں کامیاب منصوبوں کی سزا دی جارہی ہے۔ اُدھر افسر شاہی نے چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کردیا، کہا حکومت سول سرونٹس کا تحفظ یقینی بنائے۔

پنجاب میں بیوروکریسی میں بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید ہوتا جا رہا ہے، حکومت اور بیوروکریسی آمنے سامنے ہے تو بیوروکریسی میں بھی ایک نہیں کئی گروپ بن چکے ہیں۔

اس سلسلے میں افسر شاہی نے چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کرلیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سول سرونٹس کو عدلیہ کی طرز پر آئینی تحفظ دیا جائے۔ سول سرونٹس کی ایک سیٹ پر کم از کم دو سال تعیناتی ہونی چاہیے۔ سی ایس ایس، پی ایم ایس اور پی سی ایس افسروں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ سول سرونٹس کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے لئے ٹربیونل ہونا چاہیے، کسی افسر پر کیس بنے تو حکومت قانونی معاونت فراہم کرے۔ وزیراعلیٰ آفس کے احکامات چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کے دفتر کے ذریعے بھجوائے جائیں۔ کسی افسر کی تضحیک کی صورت میں معافی مانگے جانے تک کام نہیں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مقبول احمد دھاولہ، آفتاب چیمہ، محمد علی نیکوکارا، وسیم اجمل، عامر عتیق خان اور صفدر ورک کی تضحیک پر معافی مانگی جائے۔

بیوروکریسی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے پنجاب کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں احد چیمہ کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کہا گیا یہ گرفتاری بلاجواز اور غیر قانونی ہے، نیب نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ احد چیمہ فرض شناس، محنتی اور دیانت دارافسر ہیں اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتاری اور شفافیت سے تکمیل پر دنیا ان کی معترف ہے، انہوں نے عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پنجاب کابینہ کے اجلاس میں احد چیمہ اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن اخلاقی اور قانونی مدد مہیا کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اُدھر پنجاب کی اپوزیشن بیوروکریسی کیخلاف میدان میں آگئی۔ اور اپوزیشن لیڈر محمودالرشید کی قیادت میں پی ٹی آئی کا وفد ہتھوڑے لے کر سول سیکرٹریٹ پہنچ گیا، جہاں ان کا کہنا تھا کہ احد چیمہ کو راتوں رات ترقی سے نواز دیا گیا، ابھی درجنوں احد چیمہ موجود ہیں۔

پنجاب میں بیوروکریسی میں بحران سیاسی مداخلت کے بعد اور بھی شدید ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ناصرف صوبے بلکہ ملک میں انتظامی معاملات بری طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔