میڈیکل کی طالبہ کا قاتل کون؟تحقیقات شروع



کراچی(24نیوز) گزشتہ روز ہونے والے پولیس مقابلہ میں میڈیکل کی طالبہ فائرنگ کی زد میں آنے سے جاں بحق ہوگئی تھی،تاحال حقیقت سامنے نہیں آئی کہ گولی پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے لگی یا ڈاکوؤں کی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزسخی حسن کےقریب دو ملزمان کو واردات کرتے دیکھا گیا، پولیس نےملزمان کاتعاقب کیا تو ملزمان نےفائرنگ کی اور فرار ہوگئے، ملزمان کا پیچھا کرتے ہوئے پولیس انڈہ موڑ پر ڈگری کالج کے قریب پہنچی تو دوبارہ مقابلہ ہوا، فائنل ایئرکی طالبہ نمرہ لڑکی پولیس کی مبینہ فائرنگ سے جاں بحق ہوئی یا ڈاکوؤں کی فائرنگ سے تاحال کو ئی ثبوت سامنے نہیں آئے، جبکہ ڈاکٹر زکا کہنا ہے نمرہ کو چھوٹے ہتھیار کی گولی لگی،جاں بحق لڑکی کے ماموں کہتے ہیں نمرہ کو پولیس کی گولی لگی،ایس ایس پی سنٹرل کاکہناتھاکہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا دی جائے، لواحقین کو پولیس پرشک جائز ہے۔

ذرائع کاکہناتھاکہ گزشتہ روز یوپی موڑ پر پولیس مقابلے کے دوران نمرہ  کو گولی  لگی ، مگر کس  کی فائرنگ سے؟تفتیش شروع کر دی گئی ،مقتول نمرہ کے اہل خانہ نے نمرہ کی موت کا ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو ٹھہرایا،نمرہ کے اہلخانہ نےآئی جی سندھ سے واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 کراچی پولیس چیف نے واقعے کی انکوائری کے لئے بی آئی جی ویسٹ کو احکامات  جاری کئے ہیں، ان کاکہناتھاکہ اگر نمرہ کی موت کے قصور وار پولیس اہلکار نکلے تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔