منی لانڈرنگ دنیامیں مشکل،پاکستان میں آسان بنانےکافیصلہ

منی لانڈرنگ دنیامیں مشکل،پاکستان میں آسان بنانےکافیصلہ


اسلام آباد(24نیوز) عالمی سطح پرمالیاتی قوانین میں سختی سے بیرون ملک پوشیدہ اثاثوں کوچھپانا مشکل ہوگیا، پاکستان میں حکومت پوشیدہ اثاثے رکھنے والوں کی مدد کیلئے آگے آگئی،وزیراعظم نےٹیکس ایمنسٹی اسکیم کااعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کی اعلان کردہ مجوزعہ اسکیم سے ملک کو کوئی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں، بیرون ملک پوشیدہ اثاثے اور اکاونٹس رکھنے والوں کی ضرور موجیں لگ گئیں۔ ایک رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بااثر پاکستانیوں کے بیرون ملک پوشیدہ اثاثوں اور بینک اکاونٹس کی مجموعی حجم 150 ارب ڈالر ہے۔ اسکیم کے تحت 3 سے 4.5 ارب ڈالر ہی قومی خزانے میں آنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزعہ اسکیم کے تحت اثاثے ظاہر کرنے والوں پر الیکشن کمیشن، نیب،انکم ٹیکس سمیت کسی قانون کا اطلاق نہیں ہوگا اور اثاثے ظاہر کرنے کی بنیاد پر کوئی نااہل نہیں ہوسکے گا۔ قانون کے تحت صرف 2 فیصد جرمانہ ادا کرکے بیرون ملک پوشیدہ رقوم کو قانونی حیثیت دی جاسکتی ہے۔ بیرون ملک جائیداد والوں سے 5 فیصد اور پوشیدہ رقم لانے والوں سے 20 فیصد جرمانہ وصول کرنے کی تجویز ہے۔ پانامہ لیک کے سامنے آنے پر متعدد ممالک نے غیر ملکیوں کے اثاثے بنانے سے متعلق قوانین سخت کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ برطانیہ میں منی لانڈرنگ اور معاشی جرائم کی روک تھام کے پیش نظر قوانین میں ترمیم کی جا رہی ہے۔جس کے تحت جائیداد خریدنے والی غیر ملکی کپمنیوں کو اصل مالک کا نام ظاہر کرنا ہوگا۔