انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس کی سماعت، چیف جسٹس کا خواجہ سعد سے دلچسپ مکالمہ


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف کیس کی سماعت ، چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارنے ریمارکس دیے ،کچھ بھی کرناپڑے پارلیمنٹ کی تکریم کم نہیں ہونے دیں گے، پارلیمنٹیرین کو بھی عدلیہ کی عزت برقراررکھنی چاہیے، حوصلہ دکھارہے ہیں تحمل کوکمزوری نہ سمجھاجائے،سماعت کے دوران چیف جسٹس کا خواجہ سعد رفیق سے دلچسپ مکالمہ، خواجہ صاحب آپ خوب بولتے ہیں یہاں بھی کچھ بولیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔مقدمے میں راجہ ظفرالحق نے جواب جمع کرانے کیلیے عدالت سے دوہفتوں کی مہلت طلب کی۔ شیخ رشید کے وکیل فروغ نسیم نےنوازشریف کو ن لیگ کا صدر مقرر کرنے سے متعلق عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا کی۔جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف ترمیم کے نتیجے میں پارٹی سربراہ بنے ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق کو اچھا مقرر قراردیتے ہوئے کہا کہ سعد رفیق کوسنتے ہیں انہیں عدالت میں بھی سن کر بات کریں گے۔ان سےلوہے کے چنے والی بات بھی کرنی ہے۔ پرویزرشید بھی تقریرشفقت اورپیارسے کرتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے لیگی رہنماوں کوسپریم کورٹ کے باہرمیڈیا ٹاک سے روکتے ہوئے کہاکہ توجہ ہٹاکردوسرے معاملات میں الجھنا نہیں چاہتے پارلیمنٹرین کی عزت کرتے ہیں انہیں بھی ہماری عزت برقرار رکھنی چاہئے۔حوصلہ دکھارہے ہیں تحمل کوکمزوری نہ سمجھاجائے۔ سماعت کے اختتام پرچیف جسٹس نے حاضری رجسٹرمیں خواجہ سعد رفیق کا نام بولڈ الفاظ میں لکھنے کا مزاح بھی کیا۔

مزید دیکھیں: