قومی اسمبلی اجلاس،متحدہ اپوزیشن نے ہنگامہ کرنے کا پلان بنالیا



اسلام آباد( 24نیوز ) قومی اسمبلی کے اجلاس، وزیر خرانہ اسد عمر رواں مالی سال کا تیسرا بجٹ پیش کرینگے۔

ذرائع منی بجٹ میں سینکڑوں درآمدی اشیاء پر کسٹمز،ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کی تجویر ہے، درآمدی بل کم کرنے کے لئے صرف لگژی اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے،ذرائع کے مطابق کاسمیٹکس، پرفیومز، گھڑیاں، موبائل فونز، ڈبہ پیک دودھ،شیمپو، کریم، پنیرو دیگر اشیاء مہنگی ہوجائینگی۔

ٹیکس فائلرز کے لئے بنکوں سے یومیہ 50 ہزار روپے نکلوانے پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویزپیش کی گئی ہے،نان فائلرز کے لئے بینکوں سے 50 ہزار نکلوانے پر 06 فیصد شرح برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، 18 سو سی سی سے اوپر گاڑیوں پر 10 فیصد ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے، ذرائع گاڑیوں کے ٹائروں پر ریگولیٹَری ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز، ذرائع اسلام آباد:150اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز, ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمدی شعبے کیلئے خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی کی تجویز ہے،منی بجٹ میں نان فائلرز کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

وزیر خزانہ کی طرف سے منی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ارکان اسمبلی اس پر بحث کریں گے،اسمبلی سے بجٹ منظوری کے بعد صدر سینیٹ کو بھیجا جائے گا۔

ادھر متحدہ اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے جانے والے منی بجٹ کی مخالفت کرتے ہوئے شدید احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے چیمبر میں اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس جس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں مریم اورنگزیب، رانا تنویر، رانا ثناءاللہ، نوید قمر، خورشید شاہ، شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف اور امیر حیدر خان ہوتی نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق شرکا نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ منی بجٹ کی شدید مخالفت کی جائے گی اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں شدید احتجاج کیا جائے گا، شرکا نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ظالمانہ ٹیکسوں کا نفاذ قبول نہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer