"ساہیوال آپریشن میں سی ٹی ڈی سے مجرمانہ غلطی ہوئی"



لاہور(24نیوز) پنجاب حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ساہیوال آپریشن میں کوتاہی برتی گئی ہے. یہ انتہائی بری طرح سے پلان کیا گیا. آپریشن تھا جس میں بے گناہ افراد کی جانیں گئیں. تاہم حکومتی نمائندوں کا اصرار تھا کہ آپریشن میں ہلاک ہونے والے ذیشان کا تعلق دہشت گردوں کی نیٹ ورک سے تھا۔

ان کیمرہ میڈیا بریفنگ میں پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کیپٹن فضیل اصغر نے بتایا کہ سانحہ ساہیوال میں مارے جانے والے ذیشان کا تعلق داعش کے عدیل حفیظ گروپ سے تھا جس نے لاہور سے امریکی شہری وارن وائنسٹائن، اسلام آباد سے بریگیڈئرطاہر مسعود اور ملتان سے علی حیدر گیلانی کو اغوا کیا جبکہ آئی ایس آئی کے انسپکٹر عمر مبین جیلانی کو اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کیا۔

عدیل حفیظ اور اس کے ساتھی کو سی ٹی ڈی نے فیصل آباد میں ایک آپریشن میں ہلاک کردیا گیا لیکن وہ اس سے پہلے ذیشان کے ہمراہ ساہیوال میں دیکھا گیا تھا جبکہ ذیشان کے زیراستعمال آلٹو گاڑی لاہور میں بھی عدیل حفیظ کی ہنڈا سٹی گاڑی کے ساتھ دیکھی گئی تھی۔ عدیل حفیظ ہلاکت سے قبل ذیشان کے گھر بھی رہا ہے جبکہ گوجرانوالہ میں ہلاک کئے جانے والے دو دہشت گرد بھی ذیشان سے رابطے میں تھے۔

کیپٹن فضیل اصغر نے کہا کہ ذیشان کے زیراستعمال آلٹو گاڑی بھی عدیل حفیظ کی ملکیت تھی، یہ گاڑی سترہ جنوری کو چونگی امرسدھو کی تنگ گلیوں میں پارک دیکھی گئی، وقوعہ کے روز یہی گاڑی صبح نو ساڑھے نوبجے مانگا منڈی کے قریب ساہیوال کی جانب دیکھی گئی تو اس کا پیچھا کیا گیا. خیال تھا کہ شائد دہشت گرد اپنا ٹھکانہ بدل رہے ہیں جس پر آپریشن کیا گیا اور ذیشان کےساتھ تین دیگر بے گناہ افراد بھی مارے گئے۔

پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بھی کہا کہ ساہیوال آپریشن میں سی ٹی ڈی سے مجرمانہ غفلت ہوئی ہے، سی ٹی ڈی نے پہلے تین گھنٹوں میں کئی پینترے بدلے لیکن وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پرعزم ہیں کہ وہ سانحہ کے ذمہ داروں کو قرار واقعہ سزا دے کر رہیں گے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔