میں نہ مانوں

مناظرعلی

میں نہ مانوں


پوری دنیاجانتی ہے کہ بھارت نے کس طرح معصوم کشمیریوں پراپنی ہی زمین تنگ کررکھی ہے اوردن رات وادی کشمیرجنت نظیرمیں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ پاکستان اوربھارت کے گلی محلے سے لے کروائٹ ہاؤس تک سبھی باخبرہیں کہ بھارت کس طرح نہ صرف کشمیریوں پرزبردستی حکمرانی کررہاہے بلکہ اپناسکہ رائج رکھنے کے لیے وہ بچوں اورخواتین کوبھی موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے ذرابھی نہیں شرماتا،ہردورمیں مختلف فورمزپر مسئلہ کشمیرحل کرنے کے لیے کوششیں کی گئیں مگربھارت کی ہٹ دھرمی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کادورہ امریکہ خطے کے امن کے حوالے سے خاص طورپراہمیت کاحامل ہے جہاں ڈونلڈٹرمپ نے افغانستان،ایران اوردوطرفہ تعلقات پرتبادلہ خیال کیاوہیں امریکی صدرکی جانب سے مسئلہ کشمیرپرثالثی کی پیشکش شہ سرخی بن گئی۔امریکی صدر نے کہا کہ 'بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے، مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی۔ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے آگاہ کریں۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکا پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کرسکتا ہے۔اس کے جواب میں عمران خان نے ٹرمپ کی پیشکش کا خیر مقدم کیا اور کہاکہ ہم بھارت سے بات چیت کیلئے تیار ہیں،یقیناٹرمپ نے خطے کے امن وامان کے حوالے سےایک بڑی پیش کش کی ہے مگردنیاجانتی ہے کہ بھارت سے کبھی خیرکی توقع نہیں رہی،اپنے مذموم مقاصدکے حصول کیلئے وہ کوئی بھی حرکت کرنے اورکسی بھی پیشکش کومستردکرنے میں ذرابھی دیرنہیں کرتا۔پاکستانی وزیراعظم نے بغیرکسی شرط کے مسئؒلہ کشمیر کے حل پربھارت سے بات چیت اورامریکہ ثالثی کونہ صرف قبول کیاہے بلکہ اس پرخوشی کابھی اظہارکیاہے کہ اگردورہ امریکہ کے بعداس اہم مسئلے کوحل کرکے امن قائم کرلیاجائے تونہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کوروکاجاسکتاہے بلکہ اس خطے میں ترقی کی رفتاربھی تیزہوگی جس سے یقینادونوں طرف کے عوام کوفائدہ ہوگا۔

صدرٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کی خبریں میڈیاپرآتے ہی بھارتی سفارتکاروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اوربھارت ہمیشہ کی طرح بوکھلاہٹ کاشکارہوگیااوراس نے یہ سوچے بغیر کہ خطے کاایک بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا،فوری طورپربیان جاری کردیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی امریکی صدر کو مسئلہ کشمیر پر ثالث بننے کی درخواست نہیں کی۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاکہ مسئلہ کشمیر پر بھارت کا مستقل مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات دونوں ممالک باہمی طور پر طے کریں گے، کسی بھی قسم کی بات چیت پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی کے خاتمے سے مشروط ہے۔

اتنی عجلت میں دیئے گئے بیانات یقینابھارتی ہٹ دھرمی سے بڑھ کرکچھ نہیں کہ وہ کشمیر کے مسئؒلے کوسرے سے حل کرناہی نہیں چاہتا،اسے ڈرہے کہ امریکہ جیساملک اگرثالث بن گیاتوکہیں اس کااس وادی سے قبضہ ختم ہی نہ جائے،کہیں کشمیریوں کی طویل جدوجہدرنگ ہی نہ لے آئے اوروہ بھی آزادفضاؤں میں سانسیں نہ لے سکیں،اس کی بری نیت ہمیشہ سے ظاہرہوتی آئی ہے اوراب ایک بارانہوں نے پھراپنے مذموم ارادے سے پردہ اٹھادیاہے۔اگربھارت میں رتی بھربھی عقل ہوتی توتھوڑا انتظارکرتے اورسوچ بچار کے بعداس معاملے پراپناموقف دیتے مگرانہوں نے"میں نہ مانوں"کی رٹ لگارکھی ہے اورہمیشہ سے ہی اپنے کوے کوسفیدثابت کرنےکی ناکام کوشش کی ہےشایدوہ یہ نہیں جانتے کہ اب خطے میں پاکستان کی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیارکرتی جارہی ہے اورپاکستان کی بات ماننااوراس کی ہاں میں ہاں ملانارفتہ رفتہ دنیاکی مجبوری بن جائے گا۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔