بھارت کا کشمیری قیادت کو قتل کرنے کا منصوبہ بے نقاب

بھارت کا کشمیری قیادت کو قتل کرنے کا منصوبہ بے نقاب


نئی( 24نیوز )مودی حکومت نے مظلوم کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنگ کا منصوبہ بنا لیا، نئے منصوبے میں 21 کشمیریوں کو ہٹ لسٹ پر رکھا گیا۔ تازہ ترین کارروائیوں میں مزید پانچ کشمیری شہید ہو گئے۔
مقبوضہ وادی میں گورنر راج کے بعد بھارت کا مکرو چہرہ مزید کراہت انگیز ہو گیا، بھارتی فوج نے آپریشن آل آﺅٹ 2.0 کے نام سے ا نتہائی انسانیت سوز منصوبہ تیار کر لیا جس کے تحت شہدا کی میتیں ورثا کے حوالے نہیں کی جائیں گی،ظلم کے اس نئے ضابطے میں اکیس کشمیری شہریوں کو ہٹ لسٹ پر رکھا گیا ہے ۔
تازہ ترین کارروائیوں میں وادی کے ضلع اسلام آباد میں مزید 5 کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا،ان میں سے ایک شہادت گھر کو بم سے اڑانے سے ہوئی جس میں گھر کا مالک شہید اور اسکی بیوی زخمی ہو گئی ،بھارتی فوج کے ظلم اور بربریت کے خلاف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے جنہیں منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسو گیس کے شیل، ربڑ کی گولیاں اور چھرے برسائے ۔
بھارتی کانگریس رہنما سیف الدین سوز نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیری عسکریت پسندوں کےخلاف سخت گیرموقف سے کام نہیں چلے گا،سیف الدین سوزنے اس پر کتاب بھی لکھ دی۔

 یہ بھی پڑھیں:  امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر علی جہانگیر کی امریکی صدر سے ملاقات
سیف الدین سوز کاکہنا ہے کہ واجپائی اگرحزب المجاہدین سے بات کرسکتے تھے تومودی حکومت کیوں نہیں؟ مقبوضہ کشمیرمیں طاقت کااستعمال نہیں چلے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج نے نمازہ جنازہ کے اجتماعات سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت تدفین کے انتظامات بھی فوج کے ہاتھ میں ہوں گے۔
بھارتی فوج کے منصوبے کے تحت مارے گئے کشمیریوں کی میتیں ورثا کےحوالے نہیں کی جائیں گی اور منصوبے کے تحت کوشش کی جائےگی کہ میتیں غائب کردی جائیں جب کہ وادی میں جلوس اور جنازوں پر پابندی ہوگی۔