”میں نے پاکستان بنتے دیکھا“

”میں نے پاکستان بنتے دیکھا“


کوٹ ادو( 24نیوز )وطن عزیز لازوال قربانیوں کے بعد حاصل کی گیا تھا،ان قربانیوں کی یاد تازہ کرتی115 سالہ رلی بی بی عظیم جدوجہد اور وطن عزیزکی قدروقیمت سے نوجوان نسل کو آگاہ کرنے کی تڑپ لئے آج بھی ہشاش بشاش ہے۔
سفید موتی کی طرح بال، چہرے پر نمایاں جھریاں،کانپتے ہاتھ اور سیدھی کمر والی شکرگڑھ کے نواحی قصبہ نورکوٹ میں آباد زندگی کی 115 بہاریں دیکھنے والی رلی بی بی تحریک پاکستان کے واقعات کی عینی شاہد ہے رلی بی بی قیام پاکستان کے وقت 4 بیٹوں کی ماں تھی اور وہ بھارت کے ضلع امبالہ کی تحصیل روپڑ کے گاو¿ں میاں پو ر میں رہائش پذیر تھی. انہوں نے پاکستان بنتے دیکھا اور ہجرت کے دوران اپنے خاندان کی قربانی دی انکے 4 بیٹوں بھائی اور بھابھی کو انکی آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا وہ اپنی اولاد کو کندھوں پر اٹھائے تن تنہا جنگلوں میں چھپتی رہی۔

یہ بھی پڑھیے۔۔۔بھارت آزادی کی تحریکوں کو طاقت سے نہیں دبا سکتا:صدر مملکت
رلی بی بی بھارت میں قائم مہاجر روکڑی کیمپ میں رہی جہاں اسکے مطابق انہیں سﺅر کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ دشمن کے خوف سے بچے جنگل میں پھینکنا چاہے۔کسی کو گود دینے کی بھی کوشش کی۔لیکن کوئی لینے کو تیار نہ تھا۔1 بچے کو قتل ہوتے اور خاوند کو لاپتہ چھوڑ کر رلی بی بی تن تنہا ریل کے زریعے کوٹ ادو پہنچی جہاں سے 4 سال کے بعد ان کے باقی بچ جانے والے خاندان کے افراد ڈھونڈ کر لائے،رلی بی بی کے خاندان کے افراد کی تعداد 135 ہے،ابھی تک حیات بڑے بیٹے حبیب کی عمر 75 سال ہے۔
رلی بی بی کی صحت قابل رشک ہے انکھیں روشن اور دانت سلامت ہیں وہ اپنے قدموں پر چلنے کی طاقت رکھتی ہیں،رلی بی بی کے مطابق انہوں نے روپڑی خاندان کے بڑوں سے دینی تعلیم حاصل کی

رلی بی بی نے تحریک پاکستان کے واقعات پیش آنے والے حادثات اور قربانیوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے پاکستانی عوام خصوصاً نوجوان نسل کو پیغام دیا کہ اس ملک کی قدر کرو آزادی کی نعمت محکوم قوموں سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔