قرار داد لاہور اور مینار پاکستان،قومی عظمت کے دو نشان


لاہور ( 24نیوز )لاہورکے تاریخی منٹو پارک میں 1940میں منظورہونے والی قرارداد لاہورنے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے الگ وطن کی راہیں متعین کردیں۔
22 مارچ انیس سو چالیس کو قائد اعظم محمد علی جناح نے لاکھوں زندہ دلان لاہورکی موجودگی میں دلوں کی آواز زبان پر لے آئے، بڑے رہنما نے مسلمانان ہند کے مسائل کے حل کے لئے امید کا وہ دیا جلا۔جس کی روشنی سےپاکستان کا وجود عمل میں آیا۔
قائداعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس سے پہلے اس جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندوو¿ں اور مسلمانوں میں فرق اتنا بڑا اور واضح ہے کہ ایک مرکزی حکومت کے تحت ان کا اتحاد خطرات سے بھر پورہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس صورت میں ایک ہی راہ ہے کہ دونوں قوموں کے علیحدہ علیحدہ ملک ہوں“۔

یہ بھی پڑھیے۔۔۔بھارت آزادی کی تحریکوں کو طاقت سے نہیں دبا سکتا:صدر مملکت
اس قرار داد کے حصول کے لئے مسلمانان ہند نے وہی کوشش کی جو اس جلسے گاہ میں شعر کی صورت میں لکھی گئی ،دوسرے دن تئیس مارچ کو انہی خطوط پر زمانے کے شیر بنگال مولوی فضل الحق نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلا س میں قراردادِ لاہور پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے، انہیں یکجا کرکے ان میں آزاد مملکتیں قائم کی جائیں جن میں شامل یونٹوں کو خود مختاری اورحاکمیت اعلیٰ حاصل ہو۔
قرارداد کی تائید یوپی سے چوہدری خلیق الزماں، پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، خیبرپختونخواہ سے سرداراورنگ زیب، سندھ سے سرعبداللہ ہارون اوربلوچستان سے قاضی عیسیٰ نے کی،قراردادِ پاکستان24مارچ کو ہونے والے اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔

جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد دنیا کے نقشے میں مسلمانان ہند کے لئے ایک الگ ریاست وجود میں آئی
قراردادلاہورکی یاد میں بنایا جانے والے مینارپاکستان اپنی منفرد اورخوبصورت طرز تعمیرکی وجہ سے بھی اپنی اچھوتی شناخت رکھتا ہے،یہ مینارکیسے بنااوراسے ڈیزائن کرنے والا کون ہے یہ جانتے ہیں۔
قیام پاکستان کےبعد سے ہی اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ 1940میں پاس ہونے والی قرارداد لاہورکے مقام پرعظیم الشان یادگارتعمیرکی جائے ،اس یادگارکو حقیقی معنوں میں یادگاربنانے کے لیے دنیا بھرکے ماہرین فن تعمیر کودعوت دی کہ وہ اس کے لیے کوئی نقشہ تشکیل دیں،دنیا بھرسے درجنوں ماہرین نے اپنے اپنے نقشے ارسال کیے مگراس میں سے روسی نژاد آرکیٹیکٹ نصرالدین مرات خان کے ڈیزائن کوہی یادگارقراردادپاکستان کے لیے منتخب کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے۔۔۔جوڈیشل مارشل لا کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں:چیف جسٹس
نصرالدین مرات خان کواپنے اس بنائے ہوئے مینارپاکستان سے اتنی محبت ہوئی کہ بعد میں انہوں نے پاکستان میں ہی مستقل سکونت اختیارکرلی،ان کے بچے آج بھی لاہورمیں رہتے ہیں ،یہ ہیں میرال خان جن کے پاس آج بھی، اسکے والد کے ہاتھ سے تیار کردہ نقشہ جات موجود ہیں ، جن پر مینار کے ہر حصے اور ہر کونےکو خود نصر الدین مرات خان نے اپنے ہاتھ سے ڈیزائن کیا۔
مینار کی تکمیل کے ایک سال بعد مرات خان جہان فانی سے کوچ کر گئے مگر ان کا تخلیقی شاہکار مینار پاکستان ، آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان کی ترقی اوراس کے حصول کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی آج بھی داستان سنارہا ہے۔