سپریم کورٹ لاہور رجسٹری:کمسن بچوں کے اغواء پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری:کمسن بچوں کے اغواء پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت


 لاہور(24نیوز): سپریم کورٹ نے کمسن بچوں کے اغواء پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران پنجاب پولیس کی کارکردگی غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر پانچ ریجنل پولیس آفیسرز کو رپورٹس سمیت طلب کر لیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس منظور احمد ملک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، پنجاب پولیس کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رائے اشفاق کھرل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت نو مقدمات میں سے دو شہریوں کے بچوں کو ٹریس آؤٹ کر لیا گیا ہے، ماڈل ٹائون کے رجب علی کا بیٹا بازیاب ہو گیا ہے جبکہ قصور کے شہری کے بیٹے کے اغواء میں ملوث ملزمان نے اعتراف کر لیا ہے کہ اسے قتل کر دیا گیا ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ باقی سات بچوں کی بازیابی کیلئے پولیس کوششیں کر رہی ہے۔

 ایڈیشنل سیشن جج محمود یوسف کے بیٹے کے اغواء میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم بچے کی بازیابی تاحال ممکن نہیں ہوئی لہذا پولیس کو مزید مہلت دی جائے، عدالت نے پولیس کی کارکردگی غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اب تک کی کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس درست کام نہیں کر رہی ہے۔ پولیس کی کارکردگی غیرتسلی بخش ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ کے ریجنل پولیس آفیسرز کو رپورٹس سمیت پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔