مادرجمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی ساتویں برسی

مادرجمہوریت بیگم نصرت بھٹو کی ساتویں برسی


اسلام آباد(24نیوز) جدوجہد،صبراور برداشت کو یکجا کیاجائے تو بیگم نصرت بھٹو کی شخصیت کا خاکہ بنتا ہے، مادرجمہوریت کی ساتویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

ذہانت جدوجہد سکھ اور دکھ  بیگم نصرت بھٹو کی شخصیت کی خوبیاں ہیں۔خاتون اول سے زندانوں اور سڑکوں پر عوام کے حقوق کی جنگ تکنصرت بھٹو کا سفر کٹھن اور تکالیف سے بھرپور ہے۔جب جمہوریت کی آواز بند کردی گئی تو نصرت بھٹو نے چار دیواری سے نکل کر چاروں صوبوں میں تحریک چلائی۔لاہور میں ڈنڈے برسائے گئے،ڈکٹیٹر نے ذوالفقار بھٹو کو پھانسی چڑھایا تو مادر جمہوریت نے سیاسی کارکنوں کی ماں کا کردار نبھایا ۔

بیگم نصرت بھٹو نے زندانوں سے ایوانوں تک پیپلزپارٹی کو لانے کے لیے سفر کا آغاز کیا تو پھر بیٹے کی ناگہانی موت نے صدمہ دیدیا، بیٹی کو حکومت ملی تو سکھ کے چند دن آئے،  نصرت بھٹو کی زندگی میں سکھ کا لمحہ کچھ عرصہ ہی رہا اور مرتضی بھٹو کی موت نے تو مادر جمہوریت کے دکھوں کا صحراطویل کردیا۔

پاکستانی سیاست میں ڈکٹیٹر کے خلاف مقابلہ کرنیوالی خواتین میں محترمہ فاطمہ جناح بیگم نصرت بھٹو اور بیگم کلثوم نواز کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد نصرت بھٹو کئی سال اپنی بیماری سے لڑتی رہیں اور 23 اکتوبر 2011 کو اس دنیا سے ہمیشہ کیلئے چلی گئی جہاں سے کوئی واپس نا آیا نا ہی آسکے گا۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔