صحافی کا قتل،دنیا کی نظریں ترک صدر پر جم گئیں


انقرہ( 24نیوز )عرب صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد پوری دنیا کی نظریں اسوقت ترک صدر پر لگی ہیں جو آج اس واردات کے بارے میں اہم اکشافات کریں گے،دوسری طرف ترک میڈیا نے قتل سے متعلق تحقیقات جاری کر دی ہیں اور عالمی سطح پر سعودی عرب پر دباو بڑھتا جا رہا ہے۔

سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل پر ترک میڈیا نے تحقیقات جاری کر دی ہیں ،ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ صحافی کی لاش قالین میں لپیٹ کرقونصل خانے سے باہرنکالی گئی،لاش ٹھکانے لگانے کیلئے مقامی شخص کو دی گئی تھی،سعودی قونصل خانہ سے بغیر نمبر پلیٹ گاڑی بھی برآمد کی گئی ہے ۔

امریکی میڈیا کے مطابق سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد ان ہی کا لباس پہننے ایک شخص کو استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے سے باہر آتے دیکھا گیا جبکہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو اس ہی وقت سفارت خانے سے 4 کالز بھی کی گئی تھیں،دوسری طرف سعودی صحافی کے حوالے سے ترک صدر بھی آج بڑے انکشافات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

ترک صدر کے مطابق وہ سعودی وضاحتوں کا پردہ چاک کرنے والے ہیں ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کو دوبارہ کہا ہے کہ وہ جمال خشوگی کی موت کے حوالے سے سعودی حکام کی جانب سے فراہم کردہ وضاحتوں سے مطمئن نہیں ہیں،امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہیسپل بھی تحقیقات کے سلسلے میں استنبول پہنچی ہیں،سعودی صحافی کے قتل کا معاملہ جرمنی کے بعدکینیڈا نے بھی سعودی عرب کے ساتھ 13 بلین ڈالر کے دفاعی منصوبے پر عملدرآمد غیر معینہ مدت تک روکنے کا اعلان کر دیا،جرمن وزیر اقتصادیات پیٹر آلٹمائر نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خشوگی کی ہلاکت کے معاملے میں یورپ کو متحد ہو کر ایک متفقہ موقف اپنانا چاہیے جبکہ برطانوی وزیر اعظم نے اس قتل کے حوالے سے حقائق عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔