زیرو سے کاروباری سفر شروع کرنیوالا نوجوان 12سال میں کیسے کامیاب انسان بنا؟

زیرو سے کاروباری سفر شروع کرنیوالا نوجوان 12سال میں کیسے کامیاب انسان بنا؟


خانیوال (ویب ڈیسک)انسان کچھ کرنے کی ٹھان لے تو وہ ایک دن کامیاب ہو ہی جاتا ہے،فیکٹری میں جھاڑو لگا نے والا خاکروب 12سال میں ترقی کرکے فیکٹری کا مینیجر بن گیا،ساتھ ہی ساتھ  اپنے تجربے اور علم سے پوری دنیا کے لوگوں کو تربیت دے رہا ہے،یہ شخص صرف کامیاب ملازم،کامیاب بزنس مین ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب وی لاگر بھی ہے۔

 ضلع خانیوال کے گاؤں چک 79  کا رہائشی شاہد حسین جوئیہ پوری دنیا میں پہچان رکھتا ہے،34 سالہ شاہد حسین جوئیہ نہ تو علاقے کی کوئی بااثر شخصیت ہیں، نہ بڑے زمیندار ہیں اور نہ ہی کوئی سیاست دان ہیں ان کا ملتان میں فرٹیلائزر کا کاروبار ہے۔ وہ مائع فرٹیلائزر بڑے پیمانے پر تیار کر کے فیکٹریوں کو فروخت کرتے ہیں۔

شاہد حسین جوئیہ نے برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنا سفر بالکل نچلی سطح سے شروع کیا۔ ابتدا میں میں ملتان کی ایک فیکٹری میں جھاڑو دیا کرتا تھا۔ بارہ سال کے عرصے میں اپنی محنت اور مستقل مزاجی کے باعث ترقی کرتے ہوئے اسی فیکٹری میں جنرل مینیجر کی پوزیشن پر پہنچ گیا۔

وہ اپنی ویڈیوز میں مختلف کاروباری آئیڈیاز پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان ویڈیوز کے ذریعے کسی بھی کاروبار کو شروع کرنے کے لیے درکار سرمائے، مشینری، افرادی قوت اور خام مال کے بارے میں مکمل اور جامع معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ آپ ایک ہزار روپے جیب میں ڈال کر آئیں، میں آپ کو اسی دن کاروبار شروع کرا کے واپس بھیج سکتا ہوں۔

ہفتے میں ایک دن اتوار کو یہ ملاقات کیلئے آنیوالوں سے اپنے آئیڈیاز شیئر کرتے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس بزنس سکول کی کوئی فیس نہیں ہے، داخلے کے لیے شرائط نہیں ہیں، اور تو اور تعلیمی قابلیت کی بھی کوئی قید نہیں۔

بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے محمد عمیر نے واشنگ پوڈر کار وبار شروع کیا اور  آج ان کی اپنی فیکٹری ہے۔اٹک کی  رقعیہ بی بی  گھر بیٹھے ملتانی مٹی بیچنے کا کام کر رہی ہیں۔ اس مٹی سے خواتین اور مردوں کے لیے فیس ماسک تیار کیے جاتے ہیں۔اور خوشاب کے احمد رضا نے سولر پینلز فروخت کرنے کا بزنس شروع کیا تھا۔ اب وہ پاکستان کے سولہ شہروں میں کاروبار کر رہے ہیں۔

ان کے مشوروں سے لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہورہی ہیں،وہ ایک ایسا کام کررہے ہیں جو پاکستان کی یونیورسٹیاں بھی نہیں کرتیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer