چیف جسٹس کا" کارڈیک سنٹر "کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر پمز میں کارڈیک سینٹر بند ہوا تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی،عدالت نے کارڈیک سینٹر کے ملازمین کو اب تک کی تنخواہیں دینے کا بھی حکم دیا ہے۔
  چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نےاسپتالوں میں سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے سیکرٹری وزیراعظم فواد حسن فواد سے دلچسپ مکالمہ ہوا، چیف جسٹس نے کہا کہ جہاں فواد حسن فواد آجائیں وہاں مسئلہ حل ہو جا تا ہے ،اسی لئے توقیر شاہ کو بھی بلایا ہے تاکہ سارے ہی مسئلے حل ہو جائیں۔ چیف جسٹس نے فواد حسن فواد سے کہا ایسا کریں یہاں سے گزرتے ہوئے سپریم کورٹ آجایا کریں، اس پر فواد حسن فواد نے کہا کہ میں روز یہاں آجایا کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا یوٹرن، خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پمزکارڈیک سینٹر کے ملازمین کنٹریکٹ پر تھے، گریڈ 16 کے ملازمین کو مستقل کردیا گیا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ گریڈ17 سے اوپر افسران کی بھرتی فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے کرنی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پمز میں کارڈیک سینٹر بند نہیں ہوناچاہئے،جو لوگ پبلک سروس کمیشن سے کلیئر ہوں انہیں مستقل کیا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کارڈیک سینٹر کے ملازمین کو اب تک کی تنخواہیں ادا کی جائیں،جس پر سیکرٹری وزیراعظم نے جواب میں کہا کہ عدالت کے حکم پر عمل ہو گا۔