ریسکیواہل کار زخمیوں کو بچانے کے بجائے سیلفیاں بنانے لگے

ریسکیواہل کار زخمیوں کو بچانے کے بجائے سیلفیاں بنانے لگے


 فیصل آباد(24نیوز) سیلفی اورویڈیوبنانے کا خبط عام لوگوں میں تو تھاہی ریسکیواہل کاربھی اس بیماری میں مبتلا نکلے۔ فیصل آباد میں ریسکیواہل کارزخمی نوجوان کی جان بچانے کے بجائے ویڈیو بنانے میں مصروف رہا۔ ریسکیواہل کاروں کی اس کارکردگی نےہرکسی کوپریشان کردیا۔

ریسکیوون ون ٹوٹو جو پنجاب کا مایہ نازادارہ تھا آج روبہ زوال نظرآتا ہے۔ فیصل آباد میں فائرنگ سے شدید زخمی نوجوان کے ساتھ ریسکیواہل کاروں نے جو کیا اس سے اس ادارے کے متعلق تشویش اوربڑھ گئی ہے۔ایمبولینس میں پڑے نوجوان کو گولیاں لگی تھیں اسے ایمبولینس سے نکالنے کے لیے ریسکیواہل کاروں کی بجائےعام لوگوں نے نکالا کیونکہ ایک اہل کاراس سارے واقعہ کی ویڈیو بنانے میں مصروف تھے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم سکل یوتھ ڈوپلمنٹ پروگرام کے تحت ہنر مندی کورسز کرنے والے طلبہ و طالبات پر عزم

 ایک ریسکیواہل کارنے اس زخمی کوجس انداز میں قمیض سے پکڑکراٹھایا اس سے اس کی تربیت کا بھی پول کھل رہاتھا۔ پھرجیسے تیسے کرکے اسے اسٹریچرپررکھا گیا۔ اس سارے عمل میں ایک اہل کارمسلسل موبائل پرویڈیو بناتا رہا اس لاپروائی کی قیمت موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا اس زخمی کو چکانا پڑی جواسٹریچرسے ہی نیچے گرپڑا۔ریسکیواہل کاروں کی اس کارکردگی کو دیکھ کرصاف لگ رہا تھا کہ پنجاب میں ریکسیوکا ادارہ بھی بسترمرگ پرہے جسے فوری ریسکیوکی ضرورت ہے۔