دنیا کی دولت اور خوشیاں کیسے بڑھتی ہیں ؟

محمدسعید رفیق

دنیا کی دولت اور خوشیاں کیسے بڑھتی ہیں ؟


دنیا میں تیز رفتار ترقی کی بنیاد جس کے سہارے آج کا انسان اندر راجہ بنا بیٹھا ہےکا اور جس کا آغاز صرف 300سال قبل صنعتی دور سے ہوا۔ انسان 10ہزار سال تک زرعی دور کی بھول بھلیوں میں کھویا رہا ۔ پری ایگریکلچر دور کے اختتام پر جب دنیا میں محض ایک سے ڈیڑھ کروڑ لوگ بستے تھے اور انسانی ضروریات کا مکمل انحصار زراعت پر ہی تھا ۔ اس عرصے میں کاشت کاری کے نت نئے طریقے اور آبپاشی کا نظام وضع ہونا شروع ہوا۔اناج کی نئی نئی اقسام، غذائی چارٹر کی صورت طوالت اختیار کرتی گئیں اور انسان نئے ذائقوں سے آشنا ہوا۔

انسانی ترقی میں نئی زمینوں کی تلاش کیلئے کئے جانے والے سفروں کی بھی بڑی اہمیت رہی ہے ، ترقی کے نئے مواقع، غذائی ضروریات کی بآسانی تکمیل اور ایک آزاد دنیا کے قیام سے دورقدیم کے انسان کو تن آسانی میسر آئی ۔ انسانی حیات کے اس دور میں جب ذہنی آسودگی اور نسبتاً خوشحال ہوئی تو نتیجتاً سست روی کے ساتھ آبادی بڑھنے کے عمل کا بھی آغاز ہوا۔صنعتی دور سے قبل تک دنیا کی کل آبادی محض 67کروڑ افراد تک محدود تھی ۔

مشینوں کی حکمرانی اور پہیہ کے عام ہوتے چلن نے دنیا کو نت نئی ایجادات کے نئے دور میں پہنچادیا ۔ ایسے میں وقت نے ایک زبردست انگڑائی لی اور1800میں محض سوسالوں کے دوران زمین پر بسنے والے انسانوں کی تعداد 33کروڑ کے اضافے سے ایک ارب تک پہنچی ۔1900 میں آبادی بڑھتے ہوئے ایک ارب 60کروڑ اور پھر اگلے سوسال یعنی 2000میں غیر معمولی طور پر 6ارب تک پہنچ گئی۔ماہرین کے مطابق آباد ی میں ابتک کا تیز رفتار ترین اضافہ گزشتہ 50سالوں میں نوٹ کیا گیا۔ یہ وہ عرصہ ہے کہ جب تیزی سے بدلتی دنیا نے صنعتی انقلاب کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی فتح کے جھنڈے گاڑدییئے۔

بلاشبہ بے تحاشاپسماندہ ملکوں کی طویل فہرست ، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، بھوک ، غربت ، جنگوں اوردیگر مسائل کے کوہ انبار کے باوجود آج کی یہ دنیا پرکشش بھی ہے اور آسان بھی ، جسے انسانی ذہانت کے کمال نے بسنے والے انسانوں کے لئے رنگین اور پرآسائش بنا رکھا ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟؟ دولاکھ سالوں میں دنیا پہلی بار اتنی سرعت سے کیوں تبدیل ہوئی ؟ بڑھتی آبادی کے سر چڑھتے طوفان کی پس پردہ وجوہات کیا رہی ؟ اس کا جواب پیدا ہونے والے مسائل اورانسانی ذہن کی وسعت اور طبعیت کی جولانی سے نکلنے والے ان کے شافی حل ہی ہیں، جس سے انسانی اعتماد کو مہمیزملی۔

پہلی مشین سے لیکر چاند پر پہلے قدم اور مریخ تک کے سفر کی باتیں گزشتہ تین سوسالوں میں ہی یہ جنگل ہرا ہوا ۔ ماہرین کے نزدیک اس کی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی کا دباؤ ہی ہے جس نے حضرت انساں کو بارہا پیش آنے والے حالات اور ان سے نبرد آزما ہونے کے اسباب سکھائے۔ دنیا میں نت نئی ایجادات ،نئے تصورات ،شاہکار ٹیکنالوجی ، بے مثال سکیورٹی فیچرز اور نئے جہانوں کی تلاش کا ہدف طے کرکے آگے بڑھنے کا بے مثال راستہ ۔ درحقیقت دنیا کی ہر ترنگ کے پیچھے آبادی کا ہی کرشمہ ہے۔ اسی سبب آج ہم سماجی لحاظ سے صحت مند دنیا کا مقام رکھتے ہیں ۔ آبادی ایک پرجوش معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ جہاں ایک دوسرے کی قدر، اہمیت اور احساس کے رشتے آباد رہتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو دنیا میں سب سے کم گروتھ ریٹ والے ملک جاپان کی مثال بھی سامنےہی ہے ، جہاںکم ترین گروتھ ریٹ کے سبب بے رنگ زندگی نےبے چینی اور مسائل میں اضافہ کیا جس کی وجہ سے آج دنیا کا تیسرا امیر ترین اور ہر آرائش سے آراستہ ملک سب سے زیادہ خودکشیوں کا رحجان رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔

تمام خدشات اور اندیشوں کے برعکس آبادی میں اضافے والے ملکوں میں تجارتی انفراسٹریکچر مضبوط ،کام کرنے والے ہاتھ زیادہ اور مواقعوں کی ممکنہ دستیابی بے حساب ہے ۔ یہی نہیں بڑھتی آبادی، ٹیکس نظام کی ویلتھ اور چیئریٹی میں بھی اضافے کا سبب ہے۔جس سے یقینی طور پر ایک مضبوط نظام حکومت کو حمایت ملتی ہے، سماج تغیرات کے باوجود مستحکم طورپر پروان چڑھتا ہے اور یوں ہزار خدشات کے باوجوددنیا کے استحکام کاسفر جاری رہتا ہے۔

مالتھس نے جب ا وسائل کی دستیابی کو آباد ی سے مشروط کیا تو اس وقت دنیا کی آباد ی صرف 800ملین تھی جبکہ آج زمین پر آٹھ بلین کے قریب لوگ بستے ہیں۔ آبادی میں اضافے کے مثبت پہلوؤں کی حمایت کرنے والا مکتبہ فکر کہتا ہے آبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافے سے دنیا کی دولت میں بھی کئی گنااضافہ ہوا۔ نتیجتاً لوگوں کی فی کس آمدنی میں دو تہا ئی اضافہ ریکارڈ کیا جار ہا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ بڑھتی ہو ئی آبادی تجارتی انفرا سٹریکچر، عالمی دولت اور ٹیکس نظام کی مضبوطی کا سبب بنی ہے۔ اسی نے حضرت انسان کو پیشگی خطرات سے خبردار کیا ، جن کے سدباب کیلئے نئے ر استوں کی کھوج اور نئی منزلوں کا سفر شروع ہوااورپھر یہی کشمکش ہم سب کیلئے دنیا کے مزید خوبصورت ہونے کا موجب بنی ۔

1900 میں جب دنیا کی آبادی ایک ارب کے قریب تھی تو دنیا کی کل دولت صرف2 ٹریلین تھی ،آب جبکہ دنیا کی آبادی8ارب کے قریب ہے تو کل دولت 280 ٹریلین سے بھی تجاوز کرچکی ہے ، بڑھتی آبادی کے ساتھ بڑھتی عالمی دولت کا سلسلہ 2040میں 307ٹریلین اور2100 تک عالمی دولت400 ٹریلین سے کہیں زیادہ ہوجائیگی۔

خوشحالی اور مالی بہتری کی علامت اول و آخر مڈل کلاس ہی ہے۔ سوسائٹی کی ابجد تک بدل دینے والے اوسط مالی حیثیت کے شہریوں کا کردار بہت اہم ہے۔ 2030 تک دنیا کی 4.9 بلین آبادی مڈل کلا س کا حصہ بن جائیگی۔ نتیجتاً گزشتہ دو دہائیوں کے مقابلے میں محض 10سالوں بعد کار موٹرسائیکل ، موبائل فون اور ٹیلی وژن کی خریداری ڈبل ہو جائیگی۔

دنیا کو قدرتی وسائل کے تحفظ اور کمی سے متعلق درپیش مسائل کا تجزیہ کیا جائے تو حیرت انگیز انکشافات کے ساتھ ساتھ غیر معمولی حقیقتیں بھی آشکار ہو نگی۔صرف پانی کے موجود زخیروں کی ہی بات کی جائے تو پتہ چلےگا کہ غیر مناسب استعمال اور غیر معمولی ضیاع کا ذمہ دار کو ن ہے ؟ جائزے کے مطابق ایک امریکی خاندان روزانہ 552 گیلن پانی استعمال کرتا ہے جبکہ ایک افریقی فیملی کے حصے میں صرف 5 گیلن پانی آتا ہے۔ دنیا میں پانی کے وسائل سے محروم ملکوں کی خواتین کو سالانہ 40 ارب گھنٹے اور روزانہ 4 میل صرف پانی کی تلاش میں صرف کرنے پڑتے ہیں ۔ دوسری طرف صورتحا ل یہ ہے کہ ایک عام امریکی سالانہ 11 ہزار گیلن پانی تو ٹوائلٹ میں ہی بہا دیتا ہے ۔ ہی نہیں صاف پانی کے مستحکم ذخائر رکھنے والوں میں دنیا کے 15 بڑے ملکوں میں سے 10 کا تعلق ترقی یافتہ دنیا سے ہے۔

بات یہیں پر ہی ختم نہیں ہو تی ابھی کا ،زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے ممالک کی فہرست میں بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ہی آگے نظر آئینگے۔ پسماندہ اور ترقی پذیر مما لک کے شہر ی سالانہ ایک ٹن سے بھی کم کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں، جبکہ جدید ملکوں  میں یہ شرح6سے 30ٹن سالانہ فی کس تک ہے ، جبکہ گرین ہاؤسز گیسوں کا اخراج کرنے والوں میں  بھی کم آمدنی والے ممالک کا حصہ نہ ہونے کے بر ابر ہے ۔ ماحول دشمن کون ہے ؟ فیصلہ آپ کر لیجئے۔

پانی کی کمی سے دنیا ہجرتوں کے عذاب میں بھی مبتلا ہو گی، 22 ویں صدی میں دوارب کے قریب لوگ پانی کی تلاش میں ہجرت کرینگے ، یقینی طور پر ان کی منزل انسانی وسائل کی بتدریج کمی کے شکا مگر پانی کے بھر پور ذخیرے رکھنے والے ممالک ہونگے۔ ایسے میں دنیا کی ایک بڑی آبادی کیلئے پانی کی دستیابی کی ایک احسن صورت پیدا ہوگی ، دوسری جانب آئندہ 82 سالوں میں آبادی کا گیارہ فیصد کھو دینے والے یورپ کی اقتصادی اور سماجی ضروریات بھی پوری ہو جائینگی ۔

غربت کے خاتمے ، امن اور خوشحالی کیلئے طاقت ور ملکوں کو بھی عالمی لوٹ مار سے اجتناب کرتے ہوئے آزادانہ اور منصفانہ وسائل کی تقسیم کا نظام متعارف کرانا ہوگا۔ جہاں جنوبی افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں پھیلی غربت کے خاتمے کیلئے روڈ میپ دینا ضروری ہے وہیں وسائل پر قبضے سے استعمار کی حکمرانی کے قیام کی سازشیں اور کاوشیں بھی ختم کرنی ہونگی ۔ امید ہے کہ شعور کی بالیدگی سے 2100 میں ہماری آنے والی نسلیں  انصاف پسند، پر امن، صاف پانی اور صاف ہوا سے آراستہ ایک خوبصورت دنیا میں سانس لے سکیں  گی ۔۔ انشااللہ

آبادی میں اضافے سے ہونے والے نقصانات کی تھیوری سے متعلق اقوام متحدہ کے جان ولیم کہتے ہیں موجودہ صورتحال پر ہمیں افسردہ رہنا چھوڑنا ہوگا کیونکہ ہم کافی غذا اور کافی زیادہ توانائی بڑھانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ جی ہاں صحیح ہی کہتے ہیں جان ولیم ! بس زرا انسانی عقل اور قدرت پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں ایک اہم بات ،آبادی میں اضافے سے ہونے والے نقصانات کی تھیوری سے متعلق اقوام متحدہ کے جان ولیم کہتے ہیں موجودہ صورتحال پر ہمیں افسردہ رہنا چھوڑنا ہوگا کیونکہ ہم کافی غذا اور کافی زیادہ توانائی بڑھانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ جی ہاں صحیح ہی کہتے ہیں جان ولیم ! بس زرا انسانی عقل اور قدرت پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔