ڈاکٹرشیریں مزاری کا برقعہ اور بے پردہ ذہنیت 

سید امجد حسین بخاری

ڈاکٹرشیریں مزاری کا برقعہ اور بے پردہ ذہنیت 


وزیر اعظم پاکستان عمران خان دورہ ایران پر تہران پہنچے ، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں ، معاہدے ہوئے اور اہم معاملات پر گفتگو بھی ہوئی ۔ اس سارے عمل میں جہاں وزیر اعظم کے بیانات پر تنقید کی گئی ، وہیں وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے برقعے پر بھی خوب لے دے ہوئی۔ میں ذہنی طور پر ایک قدامت پسند معاشرے سے ہوں لیکن میری قدامت پسند ذہنیت بھی عورتوں کی آزادی کی قائل ہے۔ میں اپنے دیس میں عورتوں کو کھیتوں میں کام کرتے دیکھتا ہوں، دفا تر کے اعلیٰ عہدوں پر موجود عورتیں بھی واقف ہیں۔اب تو میرے دیس کی عورتیں جہاز بھی اڑاتی ہیں۔ اس سب کے باوجود میرے دیس کی مخصوص ذہنیت بدل نہیں سکی۔مرد کرے تو آزادی اور عورت اگر وہی کام کرے تو لٹھ بردار اس کے خلاف میدان میں آجاتے ہیں۔ عزت کے نام پر عورت کے خون کا خراج دیا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر عورت کے جسم کی بلی دے دی جاتی ہے۔

مجھے تو حیرانگی اس وقت ہوتی ہے جب معاشرتی جبر کی شکار عورت اپنے لئے آواز بلند کرتی ہے تو اس کے خلاف عورتیں ہیں میدان میں آجاتی ہیں۔ تذکرہ ہورہا تھا شیریں مزاری کے برقعے کا، تو جناب ہماری وزیر ایران کی سرزمین پر اترتے ہی عبایہ زیب تن کر لیتی ہیں۔ہنگامہ برپا ہوتا ہے، غیرت بریگیڈ اور چند خواتین نے جی بھر کر تنقید کی۔جیسا دیس ویسا بھیس کے معقولے پر عمل کرتے ہوئے شیریں مزاری تو زیر عتاب آگئیں۔ لیکن بیرون ملک دوروں پر جانے پر غیرت بریگیڈ کے افراد نے کبھی غور کیا کہ جب وہ اس دیس کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں تو ان کے پیچھے کوئی لٹھ لے کر کیوں نہیں پڑتا ۔

مجھے سعودی عرب کے دورے پر آنے والے بیرونی ممالک کے خواتین وفود کی تصاویربھی یاد آتی ہیں۔ مجھے پاکستانی ثقافتی لباس زیب تن کی ہوئی غیر ملکی سیاح خواتین بھی یاد آتی ہیں۔ اس وقت تو ہم سبحان اللہ ماشاء اللہ کہہ کر اسے شیئر کرتے ہیں لیکن جب ہمارے دیس کی خاتون کوئی دوسرا رنگ زیب تن کر لے تو اس کی خیر نہیں ہوتی۔ شیریں مزاری کا قصور صرف اتنا سا ہے کہ انہوں نے ایرانی ثقافت اور روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے عبایہ اوڑھ لیا۔ ان کا دوسرا بڑا قصور ایک پاکستانی  خاتون ہونا بھی ہے۔اگر یہی عمل کسی بھی یورپی ملک کی خاتون کرتی تو ہم اسے داد تحسین دیتے ہوئے کبھی بھی نہ چونکتے۔

ایک لمحے کو سوچیئے! کیا شیری مزاری نے کوئی غلط کام کیا ہے؟ کیا انہوں نے مسلم ثقافت کی بھرپور نمائندگی نہیں کی؟ یاد رکھیں آپ کی اس لٹھ بازی ہی کی بدولت کئی لوگ آپ سے دور بھاگتے ہیں ۔ آپ کو قدامت پسند کہتے ہیں۔ خدارا نفرتوں کو پروان نہ چڑھائیں۔ محبت کو فروغ دیں ۔ شیریں مزاری کو ان کے عمل پر داد تحسین دیں۔ہمارا یہی عمل ہمارے رویوں کو بدل کر رکھ دے گا اور معاشرے میں نفرتوں کے اگے تھور ختم کرکے محبتوں کے گلاب کھلیں گے۔