وزیر اعظم عمران خان کی پھر زبان پھسل گئی



جنوبی وزیرستان(24نیوز)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گزشتہ دس سال میں سب سے زیادہ قرضے بڑھے،مولانا فضل الرحمان سیاست کے 12ویں کھلاڑی ہیں،ان کی قیمت کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ اور ایک ڈیزل پرمٹ ہے،میں اکیلا اپوزیشن کا مقابلہ کروں گا،وزیر ستان میں 2 ڈگری کالج،سپورٹس کمپلیکس بنائے جائیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے شمالی وزیر ستان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام کی ترقی میرا نظریہ ہے،یہاں کے لوگوں کو ہم صحت کارڈ دینگے،ہر سال قبائلی علاقوں میں 100ارب روپیہ خرچ کیا جائے گا جو صوبے دینگے۔ اقتدار میں آنے کا مقصد کرپٹ لوگوں کو شکست اور ملک کو ترقی دینا ہے لہٰذا ملک لوٹنے والوں کو کوئی معافی اور این آر او نہیں ملے گا۔

وزیر اعظم کی پھر زبان پھسل گئی بلاول کو ’’صاحبہ‘‘کہہ گئے

وزیراعظم نے ایک بار پھر اپوزیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ اس دوران ان کی زبان بھی پھسل گئی اور وہ بلاول بھٹو زرداری کو ’صاحب‘ کی بجائے ’صاحبہ‘ کہہ گئے۔

عمران خان نے کہا کہ میں ’بلاول صاحبہ‘ کی طرح پرچی پر نہیں آیا، میرے اقتدار میں آنے کا مقصد کرپٹ لوگوں کو شکست اور ملک کو ترقی دینا ہے، جمہوریت بچانے کے نام پر سارے کرپٹ جمع ہوگئے ہیں لیکن قوم مطمئن رہے تمام کرپٹ لوگوں کا اکیلے ہی مقابلہ کروں گا، جب تک زندہ ہوں ملک لوٹنے والوں کو کوئی معافی اور این آر او نہیں ملے گا۔

ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ تبدیلی بڑی تیزی سے آئے گی:وزیر اعظم

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کہاہےکہ ملک چلانے کے لیے ابھی پیسا کم ہے لیکن عوام فکر نہ کریں اور بس تھوڑا سا صبر کرنا ہوگا انہیں تبدیلی نظر آنا شروع ہوجائے گی جب کہ ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ تبدیلی بڑی تیزی سے آئے گی۔جنوبی وزیرستان کے علاقے سپین کئی راغزئی میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں قبائلیوں کی تاریخ جانتا ہوں اور ان کے سارے مسئلے سمجھتا ہوں، پہلے سربراہوں کو قبائلی علاقوں کا پتہ نہیں تھا، قبائلیوں نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانی دی ہے لیکن قبائلی علاقہ سب سے پیچھے رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقے پختونخوا میں ضم ہوجائیں گے، ہرسال ایک سو ارب روپے قبائلی علاقوں میں خرچ ہوگا، اتنا پیسا خرچ کیا جائے گا جو 70 سال میں نہیں ہوا، کمزور علاقوں کو اوپر اٹھانے تک ملک ترقی نہیں کرسکتا، قبائلی علاقوں کو ترقی، روزگار اور تعلیم چاہیے، امریکا کےکہنے پر اپنی افواج قبائلی علاقوں میں نہ بھیجنے کےلیے سب سے زیادہ میں نے آواز اٹھائی، ہماری فوج نے قربانی دی ہے، جب قبائلی علاقوں میں تباہی مچی ہوئی تھی تب سے آپ کے لیے آواز اٹھارہا ہوں، نظریاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ قبائلی علاقوں کو پیچھے چھوڑا گیا، جب ریاست کمزور طبقے کو انصاف دیتی ہے اس ریاست کو پھر کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

ویڈیو دیکھیں:

عمران خان نے مزید کہا کہ اندرون سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے علاقے جو پیچھے رہ گئے ان کو آگے لائیں گے، ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ تبدیلی بڑی تیزی سے آئے گی، ملک چلانے کے لیے ابھی پیسا کم ہے لیکن عوام فکر نہ کریں، پیسا آرہا ہے، بس تھوڑا سا صبر کرنا ہوگا، تبدیلی نظر آنا شروع ہوجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے چار ہزار ارب روپے ٹیکس جمع ہوتا ہے جس میں سے 2 ہزار ارب روپے قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، رمضان میں فنڈ آنے شروع ہوں گے تو تبدیلی نظر آئے گی، اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملہ تعینات ہوگا، نوجوانوں کوقرضہ دیں گے، تباہ حال گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈ دیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے قبائلی علاقوں میں صحت انصاف کارڈ دینے کا بھی اعلان کیا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer