چیف جسٹس اورنج لائن میٹروٹرین منصوبہ کی تکمیل مکمل نہ ہونے پر برہم

چیف جسٹس اورنج لائن میٹروٹرین منصوبہ کی تکمیل مکمل نہ ہونے پر برہم


  24نیوز : سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں پنجاب کے میگا پراجیکٹس سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں عدالت نے ٹھیکیداروں سے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مکمل ہونے کا ٹائم فریم طلب کر لیا۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاہوررجسٹری میں پنجاب میں میگا پروجیکٹس سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی اوراورنج لائن ٹرین بروقت مکمل نہ ہونے پرسخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ منصوبے کی تکمیل کے لئے ضمانت لی جائے گی اور اب کسی ٹھیکیدار کو بھاگنے نہیں دیا جائےگا۔ چیف جسٹس پاکستان نے افسوس کا اظہارکیا کہ لاہور کے شہریوں نے بہت زیادہ مشکلات اٹھا لی ہیں۔

 یہ منصوبہ ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوا۔ حبیب کنسٹرکشن کے نمائندے نے بتایا کہ منصوبے کا 90 فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکا ہے اور باقی کام چینی کمپنی کوکرنا ہے جس میں تین سے چارماہ لگ سکتے ہیں۔حبیب کنسٹرکشن کے نمائندے نے بتایا کہ آخری دو چیک باؤنس ہوگئے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ ریاست کے چیک کیسے باؤنس ہوسکتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نےچیک باؤنس ہونے کے معاملے پر سیکریٹری فنانس کو طلب کر لیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے واضح کیا کہ انہیں ٹائم فریم چاہیے کہ کب تک لاہور کو اس مشکل سے آزاد کرائیں گے۔ حکومت کے نمائندوں سے بات کریں اور سب کو صاف بتا دیں کہ کچھ بھی ہو جائے یہ پراجیکٹ مکمل ہوگا۔ چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مشاورت کی بھی ہدایت کردی۔

 

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito