عظیم فنکار جمشید انصاری کو بچھڑے 14 برس بیت گئے

عظیم فنکار جمشید انصاری کو بچھڑے 14 برس بیت گئے


کراچی(24 نیوز) ٹیلیویڑن ،ریڈیو اور اسٹیج کے مایہ ناز اداکار جمشید انصاری کو دنیا سے منہ موڑے آج 14 برس بیت گئے ہیں لیکن آج بھی وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

جمشید انصاری 31 دسمبر1945 کو متحدہ ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے شہر سہارن پور میں پیدا ہوئے۔وہ چھ برس کی عمر میں والدین کے ساتھ کراچی آگئے۔ گریجویشن کے بعد جمشید لندن چلے آئے اور کچھ عرصہ برطانوی نشریاتی ادارے میں کام کیا اور ٹی وی پروڈکشن کے مختلف سرٹیفکٹ کورس کیے۔ لندن میں قیام کے دوران انہوں نے شوکت تھانوی کے لکھے ہوئے ڈرامے ’ سنتا نہیں ہوں بات‘ پیش کیا۔ 1968 میں پاکستان آئے اور پی ٹی وی میں کام کا آغاز کیا ان کا پہلا ڈرامہ ’ جھروکے‘تھا۔

جمشید انصاری کا فنی کیریئر 40برسوں پر محیط ہے، انہوں نے تقریبا 200 سے زائد ڈراموں میں کام کیا۔ ان کے ڈراموں میں انکل عرفی،  گھوڑا گھاس کھاتا ہے، تنہائیاں، ان کہی، جھروکے، دوسری عورت، زیر زبر پیش، منزلیں، بے وفائی بے حد پسند کئے گئے ۔ان کے شوخ اور مزاح سے بھرپوربرجستہ جملے زبان زدوعام ہوئے۔

انھوں نے ٹی وی کے ساتھ ساتھ ریڈیو پر بھی کام کیا۔ مشہور اسٹیج ڈرامے ’بکرا قسطوں پر‘ میں بھی جمشید نے جاندار کردار ادا کئے ۔برین ٹیومر کے مرض میں مبتلا ہو کر یہ عظیم فنکار 24اگست 2005ءکو دنیائے فانی سے کوچ کرگیا۔ 

Malik Sultan Awan

Content Writer