ایک بار پھر جیل ،احاطہ عدالت سے گرفتار

ایک بار پھر جیل ،احاطہ عدالت سے گرفتار


اسلام آباد( 24نیوز )سابق وزیر اعظم نواز شریف کیخلاف العزیزیہ ،فلیگ شپ ریفرنسز کے حوالے سے فیصلہ سنادیا گیا ہے،احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے محفوظ فیصلہ پڑھ کر سنایا ۔

فیصلے کےمطابق نواز شریف ایک بار پھر سزا سے نہ بچ سکے،عدالت نے انہیں سات سال قید سنادی ہے۔انہیں العزیزیہ ریفرنس میں سزا ہوئی جبکہ فلیگ شپ یفرنس میں بری ہوگئے،سابق وزیر اعظم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا ہے،نواز شریف کو اڑھائی کروڑ ڈالر جرمانہ بھی کیا گیا ہے،عدالت نے فیصلہ میں لکھا ہے کہ ہمارے پاس ٹھوس ثبوت ہیں،حسن اور حسین نواز کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔

ویڈیو دیکھیں:

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں کیس نہیں بنتا، اس لیے نواز شریف کو بری کیا جاتا ہے۔احتساب عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں کافی ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور نواز شریف منی ٹریل نہیں دے سکے، لہذا انہیں 7 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔

عدالت کے زبانی حکمنامے میں نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی، واضح رہے کہ عدالت حسن اور حسین نواز کو عدم حاضری پر پہلے ہی اشتہاری قرار دے کر دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے۔

نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل منتقلی کی درخواست 

سزا سننے کے بعد نواز شریف نے احتساب عدالت سے درخواست کی کہ انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے نواز شریف کی درخواست کی مخالفت کی گئی، تاہم عدالت نے سابق وزیراعظم کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

احتساب عدالت کے باہر کشیدگی

سابق وزیر اعظم نواز شریف 2بج کر بیس منٹ پر احتساب عدالت پہنچے،حمزہ شہباز شریف نے ان کی گاڑی ڈرائیو کی،لیگی کارکنوں نے احتساب عدالت کے باہر ان کا استقبال کیا،جہاں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے،کارکن اپنے محبوب قائد کے حق میں نعرے لگاتے رہے،کئی کارکن تو جذبات پر قابو نہ رکھ پائے اور آبدیدہ ہوگئے۔

کارکنوں نے نوازشریف کی گاڑی کو روک لیا،پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھ چارج کیا جس سے متعدد کارکن زخمی ہوگئے،پولیس اہلکاروں نے کارکنوں کو گاڑی سے دور ہونے کیلئے دھکے بھی دیے،لیگی کارکنوں کا پولیس پر پتھراﺅ کیا گیا جبکہ پولیس نے جواب میں شیلنگ کی ،دونوں طرف سے تصادم جاری ہے۔

ن لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود

ن لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد جودیشل کمپلیکس پہنچ گئی، سابق وزیراعظم نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔ احتساب عدالت کے باہرسکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔

سکیورٹی انتہائی سخت،اہلکاروں کا تشدد،ایک صحافی زخمی

فیصلہ سے پہلےانتظامیہ نے سیکیورٹی انتظامات مکمل کرلیے، جوڈیشل کمپلیکس کےاطراف 500 گز کا علاقہ نوگو ایریا قرار،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 1000 سے زائد اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔سکیورٹی اہلکاروں کے تشدد سے ایک صحافی زخمی ہوگئے ہیں۔

ویڈیو دیکھیں:

سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف ریفرنسز العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسزکا فیصلہ تھوڑی دیر بعد سنایا جائے گا۔انتظامیہ نے اسلام آباد میں خصوصی سیکیورٹی انتظامات کا پلان تیار کرلیا۔ جوڈیشل کمپلیکس میں عدالتی عملے سمیت صرف 50 افراد کو ہی داخلے کی اجازت ہوگی۔ رینجرز، ایف سی، سپیشل برانچ اور کاونٹر ٹیررزم فورس کے 1000 سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے۔

ویڈیو دیکھیں:

محفوظ فیصلہ سنانے میں کیا مشکل ہے:شاہد خافان عباسی

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ فیصلہ ساڑھے نو بجے سنایا جانا تھا،محفوظ فیصلہ سنانے میں کیا مشکل ہے،وکلاءکا کمرہ عدالت میں جانا ان کا حق ہے،ان کو کیوں روکا جارہا ہے،نواز شریف نے سب سے زیادہ پیشیاں بھگتی ہیں۔

ن لیگ کے کارکنوں کی احتساب عدالت میں داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف 500 گز کا علاقہ نو گو ایریا قرار دے دیا گیا ہے۔دوسری جانب نیب والوں نے بھی کمر کس لی ہے، نیب کے اعلی افسر ان کے درمیان صلاح مشورے اور رابطوں میں تیزی آگئی ہے، کیس کے فیصلے کے تناظر میں سکیورٹی کے لیے 4 ٹیمیں بھی بنا دی گئیں ہیں۔

سزا کی صورت میں نواز شریف کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے متبادل روٹ استعمال ہوسکتا ہے، موٹروے کے ذریعے چکری کے راستے بھی نواز شریف کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا پلان شامل ہے۔

مزید اہم خبریں جانئے: https://www.youtube.com/channel/UCcmpeVbSSQlZRvHfdC-CRwg/videos

اظہر تھراج

Senior Content Writer