نیب ریفرنسز: کب،کیسے کہاں کیا کچھ ہوا ؟

نیب ریفرنسز: کب،کیسے کہاں کیا کچھ ہوا ؟


اسلام آباد( 24نیوز )نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی مجموعی طور پر 183 سماعتیں ہوئیں، نیب کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس میں 22 اور فلیگ شپ میں 16 گواہان پیش کئے گئے، دونوں ریفرنسز پر 15 ماہ تک کارروائی ہوئی، اس دوران نواز شریف 130 بار عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ نواز شریف کو 15 بار اڈیالہ جیل سے پیشی کیلئے لایا گیا۔

دونوں ریفرنسز پر ابتدائی 103 سماعتیں جج محمد بشیر نے کی تھیں، بعد میں 80 سماعتیں جج ارشد ملک نے کیں، احتساب عدالت نے مختلف اوقات میں نوازشریف کو49سماعتوں پرحاضری سے استثنیٰ دیا،ریفرنسز پر کارروائی مکمل کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے 8 مرتبہ احتساب عدالت کو توسیع دی، العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف نے 152 سوالات جبکہ فلیگ شپ میں 140 سوالات کا جواب دیا۔

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں خواجہ حارث نے تفتیشی افسر اور واجد ضیاءپر جرح کیلئے 11 روز کا وقت لیا۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ا±ن کے بچوں کی اِن مشکلات کا آغاز 3 اپریل 2016 سے ہوا، پانامہ کی لا فرم موزیک فونسیکا کی لیک ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات نے تہلکہ مچایا۔ جس میں دنیا بھر کے امیر افراد کی جانب سے اثاثہ جات 'آف شور' کمپنیوں کے ذریعے چھپائے جانے کا انکشاف ہوا، دستاویزات میں نواز شریف سمیت کئی حکمرانوں کے نام سامنے آئے۔

پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے نواز شریف اور ان کے بچوں کےخلاف تین ریفرنس 8 ستمبر 2017 کو احتساب عدالت میں دائر کئے، نیب پراسیکیوٹر کے مطابق نواز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے وزارت اعلیٰ اور وزارت عظمیٰ کے دوران حسن اور حسین نواز کے نام بے نامی جائیدادیں بنائیں، اس دوران بچے زیر کفالت تھے، بچوں کے نام 16 آف شور کمپنیاں بنائی گئیں۔

نواز شریف الیکشن سے چند روز قبل سزا ہوئی ،سابق وزیر اعظم کو بیٹی مریم نواز اور داماد کے ساتھ اڈیالہ جیل بھیجا گیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer