سرکاری ڈی این اے رپورٹ میں سنگین غلطیوں کا انکشاف


لاہور (24 نیوز) سرکاری ڈی این اے رپورٹ میں سنگین غلطیوں کا انکشاف ، جلد بازی میں بنائی گئی سرکاری رپورٹ پر سوال اٹھنے لگے۔

سرکاری ڈی این اے رپورٹ میں 6 سالہ کائنات بتول کو بھی مقتولہ بنا دیا گیا۔ کائنات بتول واحد بچی ہے جو درندگی کے بعد زندہ بچ گئی تھی۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق کائنات کی لاش 13 نومبر کو ملی تھی۔ کائنات بتول اس وقت بھی چلڈرن ہسپتال لاہور میں زیر علاج ہے۔ 24 نیوز اپنے ناظرین کو کائنات بتول سے متعلق آگاہ کرچکا ہے۔

ملزم کا ڈی این اے زینب کے علاوہ اس سے پہلے اغوا اور قتل ہونے والی قصور کی چھ اور بچیوں سے بھی میچ کرگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق قصور میں بچیوں کے اغوا کے بعد جنسی زیادتی اور قتل کی وارداتیں ایک کلومیٹر کے علاقے میں ہوئیں۔ تمام وارداتیں ڈھائی سال کے عرصے میں ہوئیں، زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچیوں میں زینب امین، ایمان فاطمہ، نور فاطمہ، لائبہ، اسما، تہمینہ اور عائشہ شامل ہیں۔