وزیر آباد کارڈیالوجی ہسپتال دو سال سے مکمل نہ ہوسکا


گوجرانوالہ(24نیوز) وزیر آباد کارڈیالوجی ہسپتال میں باقاعدہ آپریشن شروع ہونے کی ایک مرتبہ پھر نئی تاریخ دے دی گئی ہسپتال کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد مشنری اور عملہ کی تعیناتی کا بہانہ بناکر پچھلے دو سالوں میں یہ پانچویں تاریخ دی گئی ہے 12سال قبل شروع ہونے والا یہ منصوبہ آخر کیوں مکمل نہیں ہو پارہا ،وجوہات سامنے آگئیں۔
پنجاب کا دوسرا بڑا دل کا اسپتال وزیر آباد انسیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جس منصوبے کا آغاز تو 2006 ہوا اور پی سی ون ون کی منظوری کی گئی 2012میں یعنی پہلے چھ سال ہی یہ منصوبہ سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا چھ اضلاع کے سنگم پر بنے والے دل اس اسپتال پر اب تک پونے دو ارب روپے خرچ ہوچکے مگر بد قسمتی سے ابھی یہ اسپتال دو بجے بند ہوجاتا ہے۔
ہسپتال کے اندر او پی ڈی کو شروع ہوے دو سال کا عرصہ گزر گیا ہے اپریشن تو دور کی بات دل کے امراض سے متعلق مکمل ٹیسٹ بھی نہیں ہوپاتے جبکہ دل اپریشن کے لیے منگوائی جانے والی جدید مشنری بروقت بیرون ممالک سے منتقل نہ ہونے پر اضعافی رقم دینا پڑ رہی ہے۔
حکومت پنجاب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسپتال میں دسمبر کے آخر پر دل اپریشن شروع ہوجائیں گے مگر ایسا نہ ہوسکا ایک مرتبہ پھر مارچ کو اپریشن یونٹ چلنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اسپتال میں دل کے اپریشن شروع ہونے سے نہ صرف پی آئی سی سیپریشر کم ہوگا بلکہ اموات میں بھی کمی آے گی۔