عمران یا مدثر، ایمان فاطمہ کااصل قاتل کون؟


قصور(24نیوز) قصورکی آٹھ بدنصیب بچیوں کا ڈی این اےعمران علی سے مل گیا ہے۔ معصوم ایمان فاطمہ کا ڈی این اے بھی عمران علی سے میچ ہوگیا جبکہ ایمان کے والد کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ایمان فاطمہ قتل کیس میں مدثر کو مقابلہ کے بعد مار دیا تھا۔

وحشی دردندہ اورسفاک قاتل عمران کیا پکڑا گیا، قصورمیں بچیوں سےزیادتی کا معاملہ مزیدالجھتاجارہا ہے۔ قصورکی آٹھ بدنصیب بچیوں کا ڈی این اےعمران سے مل گیا ہے جبکہ ذرائع تویہ بھی کہتے ہیں کہ عمران نےدس بچیوں کوزیادتی کے بعد قتل کرنے کااعتراف کرلیا ہے

انہیں بچیوں میں سے ایک ایمان فاطمہ ہے جس کے قتل کے الزام میں پولیس نے پہلے ایک نوجوان مدثر کو مقابلے میں مار دیا اور اب بچی کا ڈی این اے بھی عمران سے مل گیا ہے۔ ایمان فاطمہ کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس نے بتایا تھا مدثر نے اعترافِ جرم کرلیا ہے اس لئے مقابلے میں ماردیا۔

پولیس کی اس بوکھلاہٹ نےکئی سوالوں کو جنم دیدیا ہے ایک تویہ کہ کہیں مدثر بے گناہ تو نہیں تھا یہ بھی کہ کہیں وہ عمران کا سہولت کار یا ساتھی تونہیں تھا، یاپھرمدثرخود دیگر وارداتوں میں ملوث تھا اور ایمان فاطمہ سے زیادتی اورقتل کو جواز بنایا گیا۔