حکومت کیلئے حلال،اپوزیشن کیلئے حرام کیوں؟

حکومت کیلئے حلال،اپوزیشن کیلئے حرام کیوں؟


اسلام آباد(24نیوز)سیاست کے بھی عجیب کھیل ہوتے ہیں،حکمرانی کے سکے میں کبھی آپ کے حصے میں ہیڈ ہوتا ہے تو کبھی ٹی۔

بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں عمران خان کوسلیکٹڈ وزیراعظم کہا تو حکومت کو تکلیف ہوگئی۔وفاقی  وزیر عمر ایوب نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وزیراعظم کوسلیکٹڈ کہنےپراس لفظ کو حذف کرنے کا مطالبہ کردیا لیکن یہی کام پی ٹی آئی خود کرتی رہی ہے۔

ماضی میں موجودہ قائد حزب اختلاف شہبازشریف کامتبادل نام رکھنے کےلئے پنجاب اسمبلی کےباہرموجودہ حکمران پارٹی نے پارٹی سجائی اور مختلف نام مانگے گئے۔۔شہباز شریف کو کبھی شوباز شریف کہا تو کبھی ڈرامہ شریف کا لقب دیا۔

وقت نے پانسہ پلٹا،آج تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیراعظم کے لئے اپوزیشن کئی نام سوچ رہی ہے اور رکھ رہی ہے۔آج وہ کام کیسے غلط ہوگیا جس کو اس نے خود پروان چڑھایا۔۔

اگر سلیکٹڈ وزیراعظم کہنا غیرپارلیمانی ہے تو سیاسی مخالفین کو چورڈاکو،مافیا کہنا کیا جائز ہے؟اس لئے تو کہتے ہیں کہ پہلے تولیں پھر بولیں۔سیاست میں تو بولنے سے پہلے کئی بارتولیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer