کیا نواز شریف اب جیل میں بیٹھ کر پارٹی چلائیں گے؟

کیا نواز شریف اب جیل میں بیٹھ کر پارٹی چلائیں گے؟


لاہور ( 24نیوز )حکمران جماعت اپنے قائد کے حوالے سے کافی پریشان نظر آتی ہے تمام لیڈرز کو جیل کی سلاخیں دکھائی دے رہی ہیں ،آہستہ آہستہ سب نے اس کو حقیقت مانتے ہوئے بیانیے کی شکل دینی شروع کردی ہے،چھوٹے سے چھوٹے لیڈر سے لیکر وزیر اعظم تک سبھی نواز شریف اور ان کے خاندان کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں لیکن اب جارحانہ کھیلنے کی بجائے دفاعی پوزیشن اختیار کرتے جارہے ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ مشرف دور میں نوازشریف کوہائی جیکرٹھہرایا گیا تھا، اس وقت فوجی حکومت تھی، نوازشریف کی سیاست نہ اس وقت ختم ہوئی نہ آج ہوگی،سابق وزیراعظم کے جیل جانے کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کے جیل جانے کی باتیں مفروضوں پرمبنی ہیں البتہ نوازشریف جیل گئے تو وہاں سے بھی پارٹی پالیسی دے سکتے ہیں، لوگ جیل سے الیکشن جیت جاتے ہیں اور نوازشریف مشرف دور میں بھی جیل سے پارٹی چلاتے رہے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد فیصلہ کیا کہ نوازشریف پارٹی کے قائد ہوں گے، پارٹی کے فیصلے پہلے بھی مشاورت سے ہوتے رہے اب بھی ہوں گے، فیصلوں میں نوازشریف کی رائےکی اہمیت ہوتی ہے، اس بار بھی عدالتیں ڈکٹیٹر کے دور کی طرح کا فیصلہ دے سکتی ہیں لیکن ایسے فیصلوں نوازشریف کی سیاست ختم نہیں ہوگی، نوازشریف کے جیل جانے کی باتیں مفروضوں پرمبنی ہیں البتہ وہ جیل گئے تو وہاں سے بھی پارٹی پالیسی دے سکتے ہیں۔

یہ بھی ضرور پڑھیں:شہبازشریف کا23مارچ کے پیغام میں نوازشریف کو مشورہ

شہبازشریف کا 23مارچ کا پیغام یا نوازشریف کو مشورہ؟ کہا آج عدالت عظمیٰ کا احترام کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اداروں کے اندر تناؤ، مفاہمت اور مشاورت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی ضرور پڑھیں:رحمان ملک بھی قانون کی گرفت میں آ گئے، سپریم کورٹ میں درخواست دائر
اسی طرح کا بیان سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی دیا ہے،لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں منعقدہ یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف کو چند دن کا استثنیٰ مل جاتا اور وہ یہاں آکر بیگم صاحبہ (کلثوم نواز) کی عیادت کرلیتے تو اس میں کوئی حرج نہیں تھا،انسانیت کا بھی تقاضا ہے کہ بیمار کی عیادت کی جائے،نواز شریف کبھی ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے، وہ ہر چیز کا سامنا کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے، وہ خود بھی بیگم کلثوم نواز کی عیادت کرنے جائیں گے، سابق وزیراعظم نواز شریف کبھی ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے، وہ ہر چیز کا سامنا کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔
یاد رہے سابق وزیر اعظم نواز شریف پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجہ میں28جولائی 2017کو نااہل ہوگئے تھے،ان کی نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا۔
واضح رہے کہ حال ہی میں احتساب عدالت نے لندن میں زیر علاج اہلیہ کی عیادت کی غرض سے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی تھی،سابق وزیراعظم کی اہلیہ اور رکن قومی اسمبلی بیگم کلثوم نواز گلے کے کینسر میں مبتلا ہیں اور گذشتہ کئی ماہ سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں، برطانوی ڈاکٹرز، بیگم کلثوم نواز کی گزشتہ 7 ماہ میں 6 بار کیمو تھراپی کرچکے ہیں جب کہ ان کی 7 ماہ میں 3 بار سرجری بھی کی گئی،رواں ماہ کے آغاز میں ڈاکٹرز نے کلثوم نواز کی گردن میں دوبارہ ٹیومر بن جانے کے باعث ان کی مزید سرجری کا فیصلہ کیا تھا،بیگم کلثوم نواز اپنے شوہر نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی لاہور کی نشست این اے 120 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں لیکن خرابی صحت کے باعث وہ اب تک حلف نہیں لے سکی ہیں۔