شوبز کی شخصیات جو جوانی میں مر گئیں

04:21 PM, 24 Mar, 2018

محمد عبداللہ

تحریر : محمدعبدااللہ

مو ت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔دنیا میں آنے والے ہر شخص کو جلد یا بدیر موت کو گلے لگانا ہے۔موت ایک تلخ سچائی ہے جس سے کسی ذی روح کو انکار نہیں۔لیکن اگر کوئی شخص بھری جوانی میں موت کی آغوش میں چلا جائے تو یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

پاکستان فلم انڈسٹری کی کئی ایسی ہشت پہلو شخصیات ہیں۔جنہوں نے اداکاری، ڈائریکشن، میوزک اور رائیٹنگ کے میدانوں میں کامیابی کے جوہر دکھائے اور انڈسٹری کو بام عروج پر پہنچانے میںکلیدی کردار ادا کیا، بھری جوانی میںداغ مفارقت دے کر اپنے مداحوں کو اداس کر گئے۔وہ جنہیں پردہ سکرین پر دیکھ کر دلوں کی دھڑکنیں رک جاتیں تھیں،جن کی لازوال اداکاری شائقین کے چہروں پر کبھی مسکراہٹ کے پھول کھلاتی ،کبھی اداس اور ویران دلوں میں محبت کی لو جگاتی اور کبھی انکی آنکھوں سے آنسوﺅں کے دریا بہا دیتی، لمحوں میں قصہ پارینہ بن گئے، جن کی زندگی کھلتے پھولوں کی مہک سے مزین تھی،خوش بختی جن کے گھر کی باندی تھی اور جن کی زندگی کروڑوں لوگوں کیلئے قابل رشک تھی، منوں مٹی تلے جا سوئے۔ذیل کی تحریر شوبز کی دنیا کے ایسے ہی چمکتے ستاروں کی زندگی کے نشیب و فراز کی اوراق گردانی کرتی ہے جو پردہ سکرین پر جلوے دکھاتے ہوئے نوجوانی میں ہی دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔پاکستان فلم انڈسٹری کی ان لازوال شخصیات میں کامیڈی کنگ منور ظریف،چاکلیٹ ہیرو وحید مراد،فلم اور ٹی وی کی نامور اداکار رانی،پنجابی فلموں کی سپر سٹار نادرہ اور شہرہ آفاق پاپ سٹار نازیہ حسن شامل ہیں۔

منور ظریف:
پاکستان فلم انڈسٹری کے شہرہ آفاق کامیڈین اور لیجننڈ اداکارمنور ظریف جب پردہ سکرین پر نمودار ہوتے تو شائقین کے قہقوں کی برسات سے سینما ہال گونج اٹھتے تھے۔وہ ڈائیلاگ کی ڈلیوری اور برجستگی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔انہوں نے اپنے فنی کیریر کا آغاز 1961ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ”ڈانڈیاں“ میں ایکسٹرا کے طور پر کیا۔لیکن 1964ءکو ریلیز ہونے والی فلم ”ہتھ جوڑی“ ان کے فنی سفر میں اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ہتھ جوڑی کی بلاک بسٹر کامیابی نے ان کیلئے کامیابیوں کی نئی راہیں کھول دیں۔اداکارمنور ظریف اوررنگیلا کی جوڑی کو شائقین نے بے حد پسند کیا۔منور ظریف کا فلمی کیریرصرف 15 سال کے قلیل عرصہ پر محیط ہے۔منور ظریف نے پندرہ سالوں میں300سو سے زائد فلموں میں اداکاری کا لوہا منوایا۔وہ اپنے دور کے واحد اداکار ہیں۔جن کی سالانہ 20سے25فلمیں ریلیز ہوتی تھیں۔ان کی مشہور فلموں میں شیدا پستول،جیرا بلیڈ،استاد شاگرد،موج میلہ،خوشیا،شوکن میلے دی، رنگیلا اور منور ظریف ،تاج محل،نوکر ووہٹی دا،بنارسی ٹھگ،اج دا مہینوال اور بندے دا پتر شامل ہیں۔فلم بنارسی ٹھگ میںمنور ظریف نے کسٹم آفیسر،دولتمند سیٹھ کی بیوی،سادہ لوح دیہاتی ،محکمہ زراعت کے آفیسر،یتیم خانے کے سربراہ اور جواری سمیت کئی گیٹ اپ کیے۔فلم جانو کپتی میں منور ظریف نے ایک لڑکی کا کردار نہایت جانفشانی سے ادا کیا تھا۔وہ مختلف گیٹ اپ کرنے میں ماہر تھے۔وہ سڈول اور متناسب جسم کی بدولت ڈانس کرنے میں بھی کمال مہارت رکھتے تھے۔منور ظریف 25اپریل1976ءکو 35سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

رانی:
سپرہٹ اداکارہ رانی نے ساٹھ کی دہائی میں ریلیز ہونے والی فلم محبوب سے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا۔فلم محبوب ان کے لیے کامیابی کی پہلی سیڑھی ثابت ہوئی۔اداکارہ رانی بہترین رقص اور جاندار اداکاری کی بدولت کروڑوں شائقین کے دلوں کی دھڑکن تھیں۔فلم دیور بھابی میںسپرسٹار وحید مراد کے ساتھ ان کی جوڑی کو بے حد سراہا گیا۔۔اداکارہ رانی کو 1970ءمیں ریلیز ہونے والی فلم انجمن نے بام عروج پر پہنچایا۔اس فلم کے تمام گیت سپر ہٹ ہوئے۔جن میں”اظہار بھی مشکل ہے، کچھ کہہ بھی نہیں سکتے“ اور ”آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے“ بے حد مقبول ہوئے۔اس کے بعد فلم تہذیب اور امراﺅ جان ادا نے بھی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ۔ رانی کے دلکش رقص اور لازوال اداکاری نے فلم امراﺅ جان ادا کو چار چاند لگا دیئے۔انہوں نے 30سال تک پاکستان فلم انڈسٹری پر راج کیا۔ان کی معروف فلموں میںدیور بھابی،بہن بھائی،انجمن،شمع اور پروانہ،امراﺅ جان ادا،دیدار، ایک گناہ اور سہی،ثریا بھوپالی،ناگ منی،میرا گھر میری جنت، سونا چاندی،مکھڑاچن ورگا اور بہارو پھول برساﺅ سر فہرست ہیں۔اداکارہ رانی نے تقریباً168فلموں میں کام کیا۔جن میں103اردو اور 65پنجابی فلمیں شامل ہیں۔اداکارہ رانی کو کینسر کا جان لیوا مرض لاحق تھا۔جس کے باعث وہ27مئی1993ءکو 46سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملیں۔

نادرہ:

لالی ووڈ کی خوبرو اور باصلاحیت اداکارہ نادرہ نے1986ءمیں فلم آخری جنگ سے اپنے فلمی کیریر کا آغاز کیا۔اسی کی دہائی میں سلطان راہی کی ہیروئن ہونا کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔انہوں نے سلطان راہی کے ساتھ متعدد فلموں میں کام کیا۔دلکش نقوش،متناسب جسم اور جاندار اداکاری نادرہ کی پہچان تھی۔6اگست 1993ءکی شام کو لاہورکی ایک مصروف مارکیٹ میں ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوﺅں کی فائرنگ سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔انہوں نے اپنے آٹھ سال کے فلمی کیریر میںتقریباً60فلموں میں کام کیا۔فلمی حلقے آج بھی نادرہ کو با اخلاق اور ہنس مکھ اداکارہ کے طور پر جانتے ہیں۔
نازیہ حسن:
چاند چہرے اور چمکتی آنکھوں کی مالک نازیہ حسن بلاشبہ برصغیر میں پاپ میوزک کی بانی تھیں۔نازیہ حسن کے گیتوں کی جلترنگ آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے۔پاپ میوزک کی شہزادی کے گیت سدا بہار ہیں۔جو مدتوں دلوں میں پیار کی لو جگاتے رہیں گئے۔وہ1980ءمیں محض 15سال کی عمر میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔جب انہوں نے بالی ووڈ کی فلم قربانی کے لیے گیت”آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے“ گایا۔ا س گانے کی شہرت کے بعد نازیہ حسن نے اپنے بھائی زوہیب حسن کے ساتھ گیتوں کے کئی البم ریلیز کیے۔وہ پہلی پاکستانی گلوکارہ تھیں جن کو بھارتی فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہم عصر گلو کارائیں ان کی منفرد گائیکی کی قائل تھیں۔نازیہ حسن کے بہترین گانوں میںدوستی،ڈسکو دیوانے،آنکھیں ملانے والے، بوم بوم اور دل لگی شامل ہیں۔نازیہ حسن نے قانون کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی ۔وہ اقوام متحدہ کی ثقافتی سفیر بھی رہیں۔وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں۔جس کے باعث 13اگست 2000ءکو 35سال کی عمر میںخالق حقیقی سے جا ملیں۔

مزیدخبریں