قومی اسمبلی سے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا بل منظور

12:09 PM, 24 مئی, 2018

اظہر تھراج
Read more!

اسلام آباد (24 نیوز) قومی اسمبلی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ جس کی صدارت سپیکر ایاز صادق نے کی۔ عمران خان بھی اس اجلاس میں موجود تھے،اجلاس شروع ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر خوشید شاہ،شاہ محمود قریشی اور خواجہ سعد رفیق نے خطاب کیا،عابد شیر علی کو بولنے سے روک دیا گیا۔اس دوران فاٹا اصلاحات بل کی منظور بھی دی گئی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر دانیال عزیز تحریک انصاف پر برس پڑے،انہوں نے نجی ٹی وی میں نعیم الحق کی طرف سے تھپڑ مارے جانے پر معذرت کا مطالبہ کیا تو پی ٹی آئی ارکان نے نعرے بلند کرنے شروع کردیے جس پر سپیکر نے مائیک بند کردیا۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی اجلاس میں موجود تھے۔ وہ جب اجلاس میں آئے تو حکومتی ارکان نے نشستوں سے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا انہوں نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور دیگر ارکان سے مصافحہ بھی کیا۔

وزیر قانون محمود بشیر ورک نے فاٹا اصلاحات کا بل اسمبلی میں پیش کیا،وزیر اعظم نے اسمبلی فلور پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا اصلاحات بل صرف حکومت کا نہیں ہے،ارکان اسمبلی کی اکثریت نے شق وار منظوری دی، عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے تمام ارکان نے حمایت میں ووٹ دیا۔ فاٹا کے خیبر پی کے کےانضمام پر ووٹنگ مکمل ہوئی۔ جس کے فاٹا قومی دھارے کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔بل کی متفقہ منظوری تمام ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی،شیح رشید نے چودھری نثار کو گلے لگا لیا،امیر جماعت اسلامی سراج الحق،ن لیگی رہنما مریم نواز نے بھی مبارکباد پیش کی ہے۔
خیال رہے بل کی منظوری کیلئے 228ارکان کی حمایت کی ضرورت تھی۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی،تحریک انصاف ،جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی نے آج اہم بل پاس کرکے بڑا کام کیا ہے جس پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،مجھے ایک ممبر نے کہاکوئی شرم ہونی چاہیے تووہ یہاں موجود نہیں ہے،ہم نے صرف چار حلقے کھولنے کی بات کی تھی،ہم صرف اللہ کو ایمپائر مانتے ہیں۔ عمران خان کے موضوع سے ہٹ کر خطاب کرنے پر حکومتی ارکان نے شور مچانا شروع کردیا تو وہ تقریر ختم کرکے پی ٹی آئی ارکان کے ساتھ ا یوان سے باہر آگئے۔
یہ خبر بھی پڑھیں:   بیٹی کو کٹہرے میں دیکھ کرنواز شریف جذباتی

بل کی پہلی شق کی حمایت میں 229 اراکین نے ووٹ دیا اور 11 اراکین نے مخالفت کی ۔ حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی ایوان میں موجود نہیں تھے اور دونوں جماعتوں کے ارکان نے آئینی ترمیمی بل کی مخالفت کی۔

جے یو آئی (ف) کے رکن اسمبلی جمال الدین نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین سے فاٹا کا نام آج نکل رہا ہے۔ فاٹا کے عوام سے رائے لیے بغیر نظام مسلط کریں گے تو پریشانی ہوگی۔جے یو آئی (ف) کی ہی رکن شاہدہ اختر نے کہا کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنائیں ان کا حق نہ چھینا جائے۔پشتونخوا میپ کی رکن نسیمہ پانیزئی نے ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام کی رائے کے خلاف اقدام قبول نہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں:  شہباز شریف نے ایم پی اے کنول نعمان کا ٹوٹا دل جوڑ دیا

یاد رہے اجلاس میں فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے بل پیش کیا جائے گا،وفاقی کابینہ نے فا ٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کیلئے آئینی ترمیم کا مسودہ پارلیمنٹ پیش کرنے کی منظوری دے دی، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت پارلیمانی رہنماوں کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کےلئے آئینی ترمیمی مسودے پر پارلیمانی رہنماﺅں نے اتفاق کرلیا ہے،بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کی فاٹا اصلاحات بل سے متعلق تجاویز مان کر مسودے میں شامل کردیں ہیں۔

فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی اور فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات اگلے سال ہوں گے۔صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے اور 10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا جب کہ پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنا دیا جائے گا۔

اس سے قبل اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کر کے فاٹا کی عوام کو حقوق ملنے چاہیں۔ ہمیں امید ہے کہ بل کل آئے گا اور پاس ہو جائے گا ،پہلے ہی بل بہت لیٹ یو گیا ہے اور مزید لیٹ نہیں ہونا چائیے۔

واضح رہے کہ جے یو آئی ف اورپختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے شریک ارکان نے مجوزہ ترمیم پر احتجاج کرتے ہوئے واک آﺅٹ کردیا تھا۔

مزیدخبریں