امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان پر نیا الزام لگا دیا



واشنگٹن( 24نیوز ) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفرید ی ہمارے دل کے قریب ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں سفارتخانے اور قونصل خانوں میں کام کرنے والے امریکی اہلکاروں کےساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔

امریکا کی خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ سفارت کاروں سے سلوک حقیقی مسئلہ ہے، امریکا کو اس حقیقی مسئلے سے بھی نمٹنا ہوگا، جس کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں پاکستانی سفارت کاروں پر سفری پابندی کے جواب میں حال ہی میں پاکستان نے بھی امریکی سفارت کاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں نقل و حرکت سے پہلے پاکستانی دفتر خارجہ سے اجازت، ایک سے زائد پاسپورٹ پر پابندی، سفارتخانے کی آفیشل گاڑیوں پر نان ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ کی عدم اجازت اور بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر فون سمز جاری نہ کرنے جیسی پابندیاں شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے پاکستانی سفارت کاروں پر لگائی جانے والی سفری پابندی کے مطابق سفارت کار بغیر اجازت نامے کے 25 میل سے باہر نہیں جاسکیں گے اور اس سے زائد نقل و حرکت کے لیے انہیں اجازت نامہ سفر سے 5 روز قبل لینا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جانگ سے ملاقات منسوخ کرنے کا عندیہ دیدیا

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں پر پابندی کا اطلاق ان کے اہلخانہ تک بڑھا دیا گیا ہے،بریفنگ کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی 'ڈو مور' کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پناہ گاہوں اور دہشت گردی پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کرے،افغانستان میں امن کا انحصار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کی آمادگی پر ہے'۔

ایک سوال کے جواب میں مائیک پومپیو نے کہا کہ 2018 کے دوران پاکستان کو بہت کم فنڈز جاری کیے گئے، باقی فنڈز کا جائزہ لیا جارہا ہے اور یہ فنڈز بھی کم ہی ہوں گے۔خارجہ امور کمیٹی کو بریفنگ میں مائیک پومپیو نے مزید کہا کہ 'ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ ان کے دل کے قریب ہے اور وہ یہ مقصد حاصل کریں گے۔