بیرونی قرضوں کی واپسی، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے کم رہ گئے

بیرونی قرضوں کی واپسی، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے کم رہ گئے


کراچی(24نیوز) بیرونی قرضوں کی واپسی سے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 17 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے، مرکزی بینک کے پاس اب صرف دو ماہ کی درآمدات کے برابر زرمبادلہ رہ گیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران غیر ملکی قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگیوں کے باعث مرکزی بینک کے ذخائر میں مزید 47 کروڑ 87 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی۔اور اس کا حجم 10 ارب 32 کروڑ 2 لاکھ ڈالر رہ گیا، تاہم اس دوران کمرشل بینکوں کے پاس زرمبادلہ 6 کروڑ 39 لاکھ ڈالر کے اضافے سے 6 ارب 33 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگی حکومت نے مہنگائی کے سب ریکارڈ توڑ دیے

  جس کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر کا مجموعی حجم 41 کروڑ 48 لاکھ ڈالر کی کمی سے 16 ارب 65 کروڑ 22 لاکھ ڈالر رہ گیا۔ رواں مالی سال کے دوران ساڑھے چار ارب ڈالر سے زائد کے نئے قرضوں کے باوجود مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کی ذخائر میں 5 ارب 82 کروڑ ڈالر کی کمی ہو چکی ہے۔دوسری جانب پاکستان کا اقتصادی ترقی کے لیے صرف چین پر انحصار مہنگاپڑ سکتا ہے، معاشی ترقی کے لئے عالمی معیشت سے بھی تعلقات رکھنا ہوں گے۔ پاکستان نے پالیسیاں نہ بدلیں تو آئی ایم ایف کے پاس پھر کشکول لے کرجانا پڑے گا۔

پڑھنا نہ بھولیں:سرحدی کشیدگی کے باوجود پاک بھارت تجارت بڑھ گئی

 معاشی ماہرین کہتے ہیں ملک میں غیر مستحکم صورت حال سے آئندہ سال شرح نمو اندازوں سے کم رہے گی، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوتی رہی تو پاکستان کو پھر آئی ایم ایف کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق نوازشریف دور میں پاکستان کی معاشی صورت حال بہتر رہی، پچھلے مالی سال شرح نمو 13 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، کہا گیا کہ چینی سرمایہ کاری سے پاکستان کو فائدے بھی ہوئے۔

یہ خبر ضرار پڑھیں:ن لیگ نے اقتدار کے آخری دنوں میں نئے نوٹ چھاپنےاور قرضے لینے کی رفتار بڑھا دی

 ہیوی مشینری اورسازو سامان کی خریداری نے مالی سال کا خسارہ 50فیصد تک بڑھا دیا، 2بار روپے کی قدر میں کمی کے باوجود مرکزی بینک زرمبادلہ ذخائر کو برقرار نہ رکھ سکا۔گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ تسلیم کرچکے ہیں کہ اپریل میں چینی بینکوں سے ایک ارب ڈالر قرض لینا پڑا، ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر اسی طرح گھٹتے رہے توآئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے۔عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ اقتدار میں آئے تو مدد کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کر سکتے ہیں۔

شازیہ بشیر

Content Writer