لاپتہ ہونیوالی لڑکیوں کے کیس کا ڈراپ سین، حقیقت منظر عام پر

لاپتہ ہونیوالی لڑکیوں کے کیس کا ڈراپ سین، حقیقت منظر عام پر


کراچی ( 24نیوز ) کراچی کے الہٰ دین پارک سے لاپتہ ہونے والی دونوں لڑکیاں ساہیوال میں ہیں ،لڑکیاں اپنی مرضی سے ساہیوال آئیں، لڑکیوں نے ورثا کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی سے پراسرار طور پر غائب ہونے والی دونوں لڑکیاں ساہیوال میں ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وہ اغوا نہیں ہوئیں بلکہ والدین کے تشدد اور بوڑھوں سے بیاہنے سے بچنے کے لئے ساہیوال میں پناہ لے لی ہے,نائلہ اور ثنا نامی دو کزن لڑکیاں سترہ نومبر کو کراچی کے الہٰ دین پارک سے غائب ہوگئی تھیں، ورثا کی شکایت پر پولیس نے اغوا کا مقدمہ بھی درج کرلیا، تاہم پولیس تفتیش سے معلوم ہوا کہ دونوں لڑکیاں ساہیوال کے ایک گاوں میں شفقت نامی شخص کے گھر پر ہیں۔

ذرائع کے مطابق جب شفقت کو علم ہوا کہ پولیس اس کے تعاقب میں ہے تو اس نے دونوں لڑکیوں کوعدالت میں پیش کرکے دارالامان بھجوادیا ، پولیس اور لڑکیوں کے ورثا ساہیوال پہنچے اور لڑکیوں کی حوالگی کے لئے فوری طور پر مقامی عدالت سے رجوع کیا، جہاں دونوں لڑکیوں نے اپنے حلفیہ بیان جمع کررکھے تھے جس کے مطابق لڑکیوں نے اپنے حلفیہ میں کہا کہ وہ بالغ ہیں لیکن ان کے والدین ان کی شادیاں ادھیڑ عمر کے لوگوں سے کرانا چاہتے ہیں جس کے لئے انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے.

دونوں لڑکیوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں سندھ پولیس یا ورثا کے حوالے نہ کیا جائے ورنہ انہیں قتل کردیا جائے گا، عدالت نے سندھ پولیس کے اہل کاروں اور ورثا کو لڑکیوں سے ملاقات کی اجازت بھی نہ دی۔

 ذرائع کا کہنا تھا کہ شفقت نامی شخص پہلے سے شادی شدہ ہے اور لڑکیوں سے فیس بک پر دوستی ہوئی جس کے بعد وہ چل کر اس کے پاس ساہیوال آگئیں،جبکہ  شفقت اس وقت پولیس کی گرفت سے  فرار ہے پولیس نے اس کی بیوی اور بیٹے کو حراست میں لے لیا ہے۔