حکومت کی سو روزہ کارکردگی پر ایک نظر۔۔۔۔

حکومت کی سو روزہ کارکردگی پر ایک نظر۔۔۔۔


اسلام آباد(24نیوز) نئی حکومت کے سو دن عوام پر تو کافی بھاری پڑے،  کرپشن کم ہوئی یا نہیں یہ تو واضح نہیں ہو سکا،  لیکن دن بہ دن عوام پر مہنگائی کا بڑھتا ہوا بوجھ واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ مہنگائی کی اوسط شرح چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

وزیر اعظم عمران خان نے 18 اگست کو حلف اٹھایا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک سرکاری اعدادو شمار کے مطابق بھی کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی زیادہ تر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں 65 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ سرکاری طور پر جاری کردہ مختلف اشیا کی اوسطا قیمتوں کے مطابق سو دن میں سب سے زیادہ اضافہ چکن کی قیمت میں ہوا،  76 روپے فی کلو مہنگا ہو گیا،  زندہ چکن کی فی کلو اوسط قیمت 117 روپے سے بڑھ کر 193 روپے ہو گئی۔

مٹن 19 روپے کلو مہنگا ہو گیا۔  14 ہفتوں میں فی کلو قیمت 783 روپے سے بڑھ کر 802 روپے ہو گئی۔  بیف 9 روپے کلو مہنگا ہوا،  375 روپے سے بڑھ کر 384 روپے فی کلو ہو گیا۔

انڈوں کی قیمت 26 روپے فی درجن بڑھ گئی،  96 روپے میں ایک درجن مل جاتے تھے، اب 122 روپے فی درجن ہو گئے۔گھی 4 روپے فی کلو مہنگا ہو گیا، قیمت 150 روپے سے بڑھ کر 154 روپے فی کلو ہو گئی۔

دالیں 6 روپے فی کلو تک مہنگی ہو گئیں،  دال مونگ 113 روپے فی کلو سے بڑھ کر 118 روپے،  فی کلو، دال مسور 113 روپے سے 117 روپے فی کلو اور دال چنا 117 روپے سے بڑھ کر 121 روپے فی کلو ہو گئی۔

چائے کی پتی سو دنوں میں 35 روپے فی کلو مہنگی ہو گئی،  200 گرام کا پیکٹ پہلے 203 کا ملتا تھا، اب 210 روپے کا بکتا ہے۔عام کپڑا 7 روپے فی میٹر مہنگا ہو گیا، اوسطا 173 روپے فی میٹر تھا،  اوسط قیمت 180 روپے فی میٹر ہو گئی۔

گیس فی یونٹ 16 روپے 38 پیسے مہنگی کر دی گئی، پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے ایک یونٹ کی قیمت 128 روپے 70 پیسے تھی، اب 145 روپے 8 پیسے ہے۔ سی این جی 20 روپے 6 پیسے فی کلو مہنگی ہو گئی، 87 روپے 63 پیسے فی کلو سے بڑھ کر اس کا اوسطا ریٹ 107 روپے 69 پیسے ہو گیا۔

لوکل فون کال کئی سالوں سے مہنگی نہیں ہوئی تھی، وہ بھی خاموشی سے 18 فیصد مہنگی کر دی گئی، 3 روپے 94 پیسے ریٹ تھا، اب لوکل کال کا ریٹ 4 روپے 65 پیسے ہے۔

سیمنٹ کی بوری 21 روپے مہنگی ہو گئی، سو دنوں میں بوری کی قیمت 580 روپے سے بڑھ کر 601 روپے کی ہو گئی۔

نئی حکومت کے سو دنوں میں کاشتکاروں کی مشکلات بھی بڑھ گئی، یوریا، ڈی اے پی اور دوسری کھادوں کی بوری 192 روپے تک مہنگی ہو گئی۔

یہ تمام ریٹس پاکستان ادارہ شماریات کے جاری کردہ ہیں۔ مارکیٹ میں حقیقی طور پر زیادہ تر اشیا ان ریٹس سے بھی کافی زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔