کان کھول کر سن لو، کسی کو این آر او نہیں ملے گا: وزیراعظم


اسلام آباد(24نیوز) وزیر عمران خان نے  قرضہ ملنے پر سعودی عرب   کا شکریہ ادا کیا, انھوں نے کہا کہ اب آئی ایم ایف کے پاس جانے سے عوام پر بوجھ کم ہو جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو آتے ساتھ ہی قرضے کا بوجھ پڑ گیا۔قرضہ نہ لیتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا۔ سعودی عرب سے قرضہ ملنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ دواور ممالک سے بھی سعودی عرب جیسےاچھے  پیکج ملنے  کی امیدہے۔

انھوں نے کہا کہ کوشش کر رہے تھے کہ ہم آئی ایم ایف سے کم ازکم قرضہ لیں،براہ راست آئی ایم ایف کے پاس چلے جاتے توعوام پر بہت بوجھ پڑجاتا، انھوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ یمن کی جنگ میں ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ 1971 میں پاکستان کا کل قرضہ 30 ارب تھا جو 2008 تک 6 ہزار ارب تک پہنچ گیا۔انھوں نے بتایا کہ گزشتہ 10سالوں میں قرضہ 30ہزارارب تک پہنچ گیا،اس وقت گردشی قرضے 1200ارب روپے ہیں، پنجاب حکومت 1200ارب کاقرضہ چھوڑ کر گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں دباؤ ڈال کر حکومت سے این آر او لینا چاہتے ہیں, یہ جماعتیں کان کھول کر سن لیں یہ جو مرضی کرلیں انہیں کوئی این آر او نہیں دیں گے، یہ جماعتیں احتجاج کریں سڑکوں پر نکلیں ہم انہیں کنٹینر اور سہولیات دیں گے لیکن کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور ان کرپٹ لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ان لوگوں پر مقدمات نہیں بنائے یہ کیسز تو سابقہ حکومت میں بنے ہیں، ہم تو صرف آڈٹ کروارہے ہیں اور ان مقدمات پر یہ ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم عوام مت گھبرائیں ہم کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور سب کا احتساب کریں گے۔کرپشن کاکینسر نکال رہے ہیں تھوڑی سی تکلیف ہوگی۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔